امریکی محکمہ انصاف نے سابقہ جرائم چھپا کر غیرقانونی طور پر امریکی شہریت حاصل کرنے والے 2 افراد کی شہریت منسوخ کردی ہے۔
حکام کے مطابق نائجیریا کی شہری ویویئن چیکے اوبیچیرے نے 1992 میں ایک امریکی شہری کی شناخت استعمال کرکے جعلی پاسپورٹ حاصل کیا تھا، جسے 2002 میں تجدید بھی کروایا۔ استغاثہ کے مطابق 2003 میں وہ اپنی اصل شناخت پر مستقل رہائشی بن گئیں، تاہم 2012 میں دوبارہ جعلی پاسپورٹ کی تجدید کی کوشش کی اور ساتھ ہی اپنے اصل نام پر شہریت کی درخواست بھی دے دی۔ حکام کے مطابق شہریت کے انٹرویو کے دوران انہوں نے حلفاً جھوٹا بیان دیا کہ انہوں نے کبھی دوسرا نام استعمال نہیں کیا۔ وہ 2013 میں شہری بن گئیں، تاہم 2015 میں انہیں جعلی بیانات اور پاسپورٹ کے غلط استعمال کے جرم میں سزا سنائی گئی۔ اسی طرح کیوبا کی شہری میلاگروس اکوستا ٹوریس نے 2015 میں شہریت حاصل کی، تاہم اس سے قبل وہ فلوریڈا کے ایک قبائلی کسینو سے رقم چرانے کی سازش میں ملوث تھیں، جس میں ان کے شوہر اور دیگر نے جعلی کریڈٹ واؤچرز بناکر لاکھوں ڈالر چرائے تھے۔ استغاثہ کے مطابق شہریت کی درخواست میں انہوں نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ انہوں نے کبھی کوئی جرم نہیں کیا، حالانکہ وہ منی لانڈرنگ کی سازش میں شریک تھیں، جس پر انہیں 2020 میں 6 ماہ قید اور تقریباً 1.5 لاکھ ڈالر جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔ عدالت نے دونوں افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔