امریکا میں ایک ٹیلی میڈیسن کمپنی کے مالک نے 46 ملین ڈالر سے زائد کے میڈیکیئر فراڈ کیس میں جرم قبول کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزم نے چھ سال سے زائد عرصے تک ایک منظم دھوکہ دہی اسکیم چلائی۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے 43 سالہ کرسٹوفر ہار ووڈ نے اعتراف کیا کہ وہ ’ٹیلی وزٹ ایم ڈی‘ نامی کمپنی چلاتا تھا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ٹیلی مارکیٹنگ کے ذریعے میڈیکیئر مریضوں کو غیر ضروری طبی سامان اور جینیاتی ٹیسٹ لینے پر آمادہ کیا، جبکہ ڈاکٹروں کو رشوت دے کر جعلی منظوری حاصل کی جاتی تھی۔حکام کے مطابق ان ڈاکٹروں کا مریضوں سے کوئی حقیقی طبی تعلق نہیں تھا اور وہ بغیر مناسب معائنے کے نسخے جاری کرتے تھے، جنہیں بعد ازاں طبی سامان فراہم کرنے والی کمپنیوں اور لیبارٹریز کو فروخت کیا جاتا تھا۔ اس اسکیم کے تحت جعلی دعووں کی مد میں 46.2 ملین ڈالر جمع کرائے گئے، جن میں سے 17.9 ملین ڈالر ادا بھی کیے گئے جبکہ ملزم نے ذاتی طور پر 10 ملین ڈالر سے زائد حاصل کیے۔ملزم نے دھوکہ دہی کی سازش کا اعتراف کرتے ہوئے 17.9 ملین ڈالر واپس کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔ عدالت کی جانب سے سزا کا اعلان بعد میں کیا جائے گا، جبکہ اسے زیادہ سے زیادہ 20 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔