مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران آبنائے ہرمز میں مزید تین تجارتی بحری جہاز نامعلوم حملوں کا نشانہ بن گئے، جس کے بعد جنگ کے آغاز سے اب تک متاثر ہونے والے جہازوں کی مجموعی تعداد 14 ہو گئی ہے۔
میرٹائم سیکیورٹی اداروں کے مطابق بدھ کے روز آبنائے ہرمز میں تین جہازوں پر نامعلوم پروجیکٹائلز سے حملے کیے گئے۔ دوسری جانب ایران نے اسرائیل اور خطے کے دیگر مقامات پر بھی حملے کیے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی فضائی کارروائیوں کے باوجود تہران جوابی کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ادھر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ابتدا میں تیزی دیکھی گئی تاہم بعد ازاں کچھ کمی ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل کے حوالے سے خدشات بدستور موجود ہیں، کیونکہ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔پینٹاگون کے مطابق حالیہ دنوں میں ایران پر کیے گئے فضائی حملے جنگ کے آغاز کے بعد سے سب سے شدید حملے تھے۔ ادھر تہران میں ایک بینک کی عمارت پر حملے کے بعد ایرانی فوجی قیادت نے خبردار کیا ہے کہ امریکا یا اسرائیل سے منسلک مالیاتی ادارے بھی نشانہ بن سکتے ہیں۔دوسری جانب ایران میں فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کی نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں شہری شریک ہوئے اور سڑکوں پر نکل کر اظہار یکجہتی کیا۔