مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ آٹھویں روز بھی شدت اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایران کی جانب سے مختلف علاقوں میں میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس کے باعث خطے کی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق آپریشن وعدۂ صادق چہارم کے تحت اسرائیل پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ہفتے کے روز بھی اسرائیلی شہروں میں دھماکوں اور خطرے کے سائرن کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس کے قریب بیت شمیش کے علاقے میں متعدد عمارتیں شدید نقصان کا شکار ہوئیں جبکہ بعض عمارتیں مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ادھر عراق اور سعودی عرب میں امریکی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایران کی جانب سے بغداد ایئرپورٹ کے قریب واقع امریکی فوجی اڈے پر ڈرون حملہ کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ بصرہ اور اربیل میں امریکی کمپنیوں کے دفاتر اور گوداموں کو بھی ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس کے باعث کئی عمارتوں میں آگ لگ گئی۔سعودی عرب میں السطان ایئر بیس پر قائم امریکی فوجی ہیڈکوارٹر کو بھی میزائل حملے کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا، تاہم سعودی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ شیبہ آئل فیلڈ کی جانب آنے والے چھ ڈرون مار گرائے گئے اور صورتحال کو قابو میں رکھا گیا۔رپورٹس کے مطابق اردن میں نصب تھاڈ میزائل دفاعی نظام کو نقصان پہنچنے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔ اسی طرح خلیجِ فارس کے شمالی حصے اور آبنائے ہرمز کے قریب امریکی اور برطانوی تیل بردار جہازوں پر حملوں کی اطلاعات بھی دی گئی ہیں۔پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکا میں ہمت ہے تو وہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی حفاظت کے لیے اپنے بحری جہاز تعینات کر کے دکھائے۔اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں میں اب تک ایک ہزار تین سو بتیس ایرانی شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق حملوں میں شہری آبادی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ہفتے کے دوران ایران میں تین ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا جبکہ اب تک تینتالیس ایرانی بحری جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ایران کی جانب سے خطے کے مختلف ممالک میں شہری اہداف کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ادھر اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے مزید تیز کر دیے ہیں۔ تہران کے مہرآباد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کے بعد شدید آگ بھڑک اٹھی جبکہ دھوئیں کے بادل دور تک دیکھے گئے۔رپورٹس کے مطابق تہران کے مختلف علاقوں میں سرکاری اہداف کو بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ نیلوفر اسکوائر کے قریب ایک اسکول پر حملے کی خبر بھی سامنے آئی، جس کے بعد بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔