پاکستان دفتر خارجہ نے برطانوی پارلیمنٹ میں بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے گفتگو کو اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دے دیا
دفتر خارجہ نے برطانوی پارلیمنٹ میں عمران خان کے حوالے سے رکن پارلیمان کی تشویش اور گفتگو کو اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دے دیا ترجمان دفتر خارجہ نے برطانوی پارلیمنٹ میں عمران خان کے حقوق کی خلاف ورزی پر ہونے والی بات چیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی انسانی حقوق کے معاہدات کا حصہ ہے اور اس طرح کے بیانات ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت ہیں ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ قطر کی جانب سے پاک افغان مصالحت کی کوششیں خوش آئند ہیں، تاہم افغانستان کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات افسوسناک ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان افغان عوام کے خلاف نہیں بلکہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے اور دہشتگردی کے دستاویزی ثبوت اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں بھی پیش کیے جا چکے ہیں وزیراعظم اور امیر قطر کے درمیان اعلیٰ سطح کی بات چیت ہوئی اور قطر نے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی قبول کر لی۔ دورے کے دوران افغانستان کے معاملات اور دفاع کے شعبے میں بھی تبادلہ خیال ہوا،ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار او آئی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے غیر معمولی اجلاس میں پاکستانی مؤقف پیش کرنے کے لیے سعودی عرب روانہ ہوئے ہیں۔ ترجمان نے غزہ کے مغربی کنارے کو اسٹیٹ لینڈ میں تبدیل کرنے کے اسرائیلی اقدام کی مذمت اور واضح مخالفت اور مقبوضہ کشمیر میں 3 نوجوانوں کی شہادت کی مذمت کی اور کہا کہ بھارت جعلی انکاؤنٹرز اور کسٹوڈیل کلنگز کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون سے آگاہ ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم کے دورہ اسرائیل پر اسرائیل میں ہونے والے احتجاج پر یہی کہوں گا کہ یہ اچھی بات ہے کہ وہاں کچھ باضمیر لوگ اب بھی ہیں،ترجمان نے کہا کہ رواں ماہ سمجھوتا ایکسپریس کے حملے کی 19ویں برسی ہے، جس میں 70 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے۔ پاکستان نے بھارتی حکومت کی سنگ دلی اور 4 مجرموں کی رہائی کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔