امریکا میں انسانی اسمگلنگ کے ایک مبینہ بین الاقوامی نیٹ ورک کا پردہ فاش ہونے کے بعد دو افراد پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔ امریکی ریاست ورمونٹ کی وفاقی عدالت میں سامنے آنے والی خفیہ فردِ جرم کے مطابق ایک ڈومینیکن شہری اور ایک امریکی شہری پر غیر ملکیوں کو غیر قانونی طور پر امریکا داخل کرانے اور منی لانڈرنگ کی سازش کے الزامات ہیں۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق 27 سالہ فرانسسکو انتونیو لونا روزادو اور 37 سالہ جیسس ہرنینڈز اورتیز پر امریکا میں غیر قانونی تارکینِ وطن داخل کرانے کی سازش اور مالی فائدے کے لیے متعدد افراد کو سرحد پار کرانے کے الزامات ہیں۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ ستمبر 2023 میں پیش آنے والے ایک اسمگلنگ واقعے سمیت کئی کارروائیوں میں یہ نیٹ ورک متحرک رہا۔ لونا روزادو پر اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی رقوم کو مالیاتی نظام کے ذریعے منتقل کرنے کے الزامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔تحقیقات کے مطابق یہ نیٹ ورک کم از کم اگست 2022 سے مارچ 2024 تک سرگرم رہا۔ غیر ملکی افراد پہلے ہوائی جہاز کے ذریعے جنوبی کینیڈا پہنچتے، جہاں سے لونا روزادو مبینہ طور پر موبائل لوکیشن ڈیٹا کے ذریعے انہیں سرحد پار کرا کے شمالی ورمونٹ لاتا۔ بعد ازاں ایک خفیہ چیٹ گروپ کے ذریعے ڈرائیوروں کو ہدایات دی جاتیں، جن میں ہرنینڈز اورتیز بھی شامل تھا، جو ان افراد کو ورمونٹ سے نیویارک سٹی منتقل کرتے تھے۔حکام کے مطابق نیویارک پہنچنے پر تارکینِ وطن مبینہ طور پر نقد امریکی ڈالر میں ادائیگی کرتے، جن کی مالیت اکثر 10 ہزار ڈالر سے زائد ہوتی تھی۔ یہ رقوم مختلف مالیاتی لین دین کے ذریعے جمع اور نکلوائی جاتی رہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس مبینہ نیٹ ورک سے متعلق تصاویر، گاڑیوں کا ریکارڈ اور پیغامات بھی شواہد کے طور پر عدالت میں پیش کیے ہیں۔