ریاست ٹیکساس میں کولن کاؤنٹی پولیس اور وفاقی اداروں نےارونگ اور فریسکو میں چھاپہ مار کاروائی کے دوران دو بھارتی سوناروں اور دیگر کو پچپن ملین ڈالر گولڈ فراڈ کے الزام میں گرفتار کرلیا ۔
کولن کاؤنٹی شیرف کے دفتر اور وفاقی حکام کی ایک سالہ تحقیقات کے بعد ارونگ اور فریسکومیں دو انڈین جیولری اسٹورز پر بیک وقت چھاپے مارے گئے۔اس کاروائی میں اروِنگ کے اسٹور سے دو اور فریسکو کے اسٹور سے ایک شخص گرفتار کیا گیا جبکہ اسٹور میں موجود لاکھوں ڈالر نقد اور سونے اور زیوارت تمام اشیاء ضبط کر لی گئی ہیں۔سی بی ایس نیوز کے مطابق شیرف جم اسکینر کا کہنا ہے اروِنگ کے ’تیلک جیولرز‘ اور فریسکو کے ’سائمہ جیولرز‘ کے مالکان پر 55 ملین ڈالر کے ’گولڈ بار اسکیم‘ میں ملوث ہونے کا الزام ہے
گولڈ بار اسکیم میں بزرگ شہریوں کو دھمکی آمیز ای میلز بھیجی گئیں جس میں انھیں کہا گیا کہ ان کے نام مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور ان ک خلاف وفاقی ادارے انکوائری کر رہے ہیں، اگر انھوں نے سونا خرید کر کورئیر کے حوالے نہ کیا تو گرفتار کرلیے جائیں گے۔ جیولرز نے بزرگ شہریوں سے دھوکہ دہی سے حاصل کردہ سونے کو زیورات میں تبدیل کیاجسے بعد میں فروخت یا اسمگل کیا جاتا تھا۔ شیرف کے مطابق کولن کاؤنٹی میں65 سال سے زائد عمر کے تقریباً200 بزرگ شہریوں سے 7.28 ملین ڈالر لوٹے گئے جبکہ ریاست بھر میں متاثرین سے کل 55 ملین ڈالر سے زائد رقم ہتھیائی گئی۔ متاثرین میں ایک ایسا شخص بھی شامل ہے جس سے ایک ملین ڈالر نقد ہتھیائے گئے۔شیرف اسکینر کا کہنا ہے کہ اب تک4 لاکھ ڈالر سے زائد رقم متاثرین کو واپس کی جا چکی ہے۔ امید ہے کہ حالیہ چھاپوں کے بعد اس رقم میں مزید اضافہ ہوگا جو متاثرین کو واپس کی جائے گی۔