نیویارک شہر کے پلاننگ ڈیپارٹمنٹ نے اپر ایسٹ سائیڈ سمیت 12 کمیونٹی اضلاع کو سستی رہائش کی شدید کمی کے حامل علاقوں کے طور پر نامزد کردیا، جنہیں اب جنوری سے تیز رفتار منظوری کے عمل سے گزارا جائے گا۔
حکام کے مطابق گزشتہ پانچ سال میں ان 12 اضلاع میں ان کے موجودہ ہاؤسنگ اسٹاک کے مقابلے میں سب سے کم سستی رہائش تعمیر ہوئی، جس کی بنیاد پر شہر نے انہیں سست ترین علاقوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان 12 اضلاع میں شہر کی کل سستی رہائش کا صرف ایک فیصد یعنی 66 ہزار میں سے محض 724 اپارٹمنٹس تعمیر ہوئے، جو سالانہ اوسطاً ہر ضلع میں صرف 12 گھر بنتے ہیں۔ اس کے برعکس زیادہ تر برونکس میں واقع سرفہرست 12 اضلاع میں اسی عرصے میں شہر کی نصف سے زائد نئی سستی رہائش تعمیر ہوئی۔ حکام کے مطابق فاسٹ ٹریک عمل کے تحت زمین کے استعمال میں تبدیلی والے منصوبے مختصر جائزے کے بعد براہ راست سٹی پلاننگ کمیشن سے منظور ہوسکیں گے، جس سے سٹی کونسل کا کردار کم ہوجائے گا۔ کچھ کونسل ارکان نے اس فیصلے پر شدید ناراضگی ظاہر کی ہے، دوسری جانب حمایتیوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ایسے علاقوں میں تعمیرات ممکن ہوں گی جہاں مقامی مزاحمت کے باعث ڈویلپرز نے کبھی رہائشی منصوبے پیش ہی نہیں کیے۔