بشکیک میں پاکستان اور کرغزستان کے درمیان تجارت، موسمیاتی تبدیلی، انسداد دہشتگردی اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوگئے۔
معاہدوں پر دستخط کی تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف اور کرغز صدر نے شرکت کی، جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ انتہائی خوش آئند پیش رفت ہے، پاکستان کرغزستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کو 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، تجارتی حجم میں اضافے کے لیے قوانین کو مزید آسان بنایا جائے گا، جبکہ دونوں حکومتیں نجی شعبے کے درمیان تجارتی روابط کے فروغ میں بھی مکمل تعاون کریں گی۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ لاہور اور کرغزستان کے شہر اوس کو جڑواں شہر قرار دینے سے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی روابط مزید مضبوط ہوں گے۔ تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خلاف مل کر کام جاری رکھیں گے۔ کاسا 1000 توانائی منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے مشترکہ وزارتی گروپ کا قیام بھی ایک مثبت قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ مختلف شعبوں میں ہونے والے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط پاکستان اور کرغزستان کے دوطرفہ تعاون کے نئے دور کا آغاز ہیں۔