امریکا کی ریاست کینٹکی میں رہائشی جائیدادوں سے متعلق جنسی ہراسانی کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں محکمہ انصاف نے اعلان کیا ہے کہ جائیداد مالکان اور پراپرٹی مینیجرز نے تصفیے کے تحت 8 لاکھ 50 ہزار ڈالر ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
محکمہ انصاف کے مطابق عدنان شلاش اور محمد شلاش نامی پراپرٹی مینیجرز پر الزام تھا کہ انہوں نے کئی برسوں تک خواتین کرایہ داروں کو ہراساں کیا، رہائش کے بدلے ناجائز مطالبے کیے، نازیبا گفتگو کی اور بعض مواقع پر بغیر اجازت گھروں میں داخل ہوئے۔ یہ مقدمہ نومبر 2024 میں دائر کیا گیا تھا۔ اب اس مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں محکمہ انصاف نے اعلان کیا ہے کہ جائیداد مالکان اور پراپرٹی مینیجرز نے تصفیے کے تحت 8 لاکھ 50 ہزار ڈالر ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔مقدمے میں فیئر ہاؤسنگ ایکٹ کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ معاہدے کے تحت 8 لاکھ 45 ہزار ڈالر متاثرہ کرایہ داروں میں تقسیم کیے جائیں گے جبکہ 5 ہزار ڈالر بطور سول جرمانہ وفاقی حکومت کو ادا کیے جائیں گے۔