امریکا کے مختلف شہروں نے وفاقی امیگرنٹس ایجنٹس کی کارروائیوں کے بعد شہریوں کے تحفظ کے لیے نئے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ منیاپولس، شکاگو اور لاس اینجلس سمیت کئی شہروں نے “ICE-فری زون” قائم کیے ہیں، جہاں سرکاری اور عوامی مقامات پر ایجنٹس کی رسائی محدود ہے۔
خبر رساں ادارے دی گارجین کے مطابق فلاڈیلفیا، اوکلاہوما سٹی اور اوکلینڈ سمیت متعدد شہروں نے “ICE-فری زون” قائم کیے ہیں۔ ان زونز میں سرکاری اور عوامی مقامات پر ایجنٹس کی رسائی محدود کی گئی ہے تاکہ شہری اسپتال، عدالتیں، پارک اور دیگر اہم مقامات پر بغیر خوف کے جا سکیں۔ شہری حکام نے ایجنٹس کی زیادتی یا بدانتظامی کے خلاف مقدمات دائر کرنے کے لیے پولیس کو بھی ہدایت ب دی ہے۔ تاکہ شہریوں کے خلاف غیر قانونی کارروائی کی صورت میں مقدمات آسانی سے دائر کیے جا سکیں۔ حکام کے مطابق ICE کے گودام خرید کر انہیں حراستی مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے بھی شہری احتجاج کی وجہ سے ناکام ہوئے۔ اب شکاگو، نیویارک اور فلاڈیلفیا میں کرائے کی گاڑیوں، پارکنگ اور دفاتر کے معاہدے منسوخ یا محدود کیے جا رہے ہیں۔ منیاپولس میں ICE ایجنٹس کو رہائش دینے والے ہوٹلوں کے لائسنس کی تجدید بھی روک دی گئی ہے۔ ادھر مقامی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات شہریوں کے تحفظ اور ICE کی مداخلت روکنے کے لیے جرات مندانہ اور تخلیقی حکمت عملی ہیں۔
Prev Post