vosa.tv
Voice of South Asia!

مشی گن جھیل میں 150 سال بعد لاپتا مسافر بردار جہاز کا ملبہ دریافت

0

 امریکی ریاست وسکونسن کے ساحل کے قریب مشی گن جھیل کی تہہ میں 150 سال سے زائد عرصے سے لاپتا مسافر بردار اسٹیمر کا ملبہ دریافت کر لیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے دی گارجین کے مطابق جہاز کے ملبے کی تلاش کرنے والے ماہر اور غوطہ خور پال ایہورن نے تقریباً 60 برس کی مسلسل جستجو کے بعد یہ کامیابی حاصل کی۔ عالمی سطح پر جہازوں کے ملبے کی تلاش کرنے والے ادارے نے اعلان کیا کہ ایہورن کی قیادت میں ٹیم نے یہ ملبہ وسکونسن کے شہروں ریسین اور کینوشا کے درمیان ساحل سے تقریباً 20 میل دور دریافت کیا۔80 سالہ ایہورن 15 برس کی عمر سے ڈوبے ہوئے جہازوں کی تلاش کر رہے ہیں اور وہ 1965 سے ’’لیک لا بیل‘‘ کی تلاش میں تھے۔ انہوں نے بتایا کہ 2022 میں ساتھی محقق اور مصنف راس رچرڈسن کی فراہم کردہ ایک اہم سراغ کی مدد سے تلاش کا دائرہ محدود کیا گیا، اور سائیڈ اسکین سونار کی مدد سے محض دو گھنٹوں میں جہاز کا سراغ مل گیا۔تاریخی ریکارڈ کے مطابق ’’لیک لا بیل‘‘ 1864 میں کلیولینڈ، اوہائیو میں تیار کیا گیا تھا۔ اکتوبر 1872 کی ایک رات یہ جہاز ملواکی سے گرینڈ ہیون، مشی گن کے لیے روانہ ہوا، جس میں 53 مسافر اور عملہ سوار تھا جبکہ بڑی مقدار میں جَو، آٹا، گوشت اور وہسکی بھی لدی ہوئی تھی۔سفر کے تقریباً دو گھنٹے بعد جہاز میں شدید رساؤ شروع ہو گیا۔ کپتان نے واپس ملواکی کا رخ کیا، مگر طوفانی لہروں نے بوائلرز کو ناکارہ بنا دیا۔ صبح تقریباً پانچ بجے لائف بوٹس اتارنے کا حکم دیا گیا اور جہاز پچھلے حصے کی جانب سے ڈوب گیا۔ ایک کشتی الٹنے سے آٹھ افراد ہلاک ہوئے جبکہ دیگر مسافر وسکونسن کے ساحل تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ایہورن کے مطابق جہاز کا بیرونی حصہ سیپیوں سے ڈھکا ہوا ہے اور اوپری کیبنز ختم ہو چکی ہیں، تاہم ہل (Hull) کافی حد تک محفوظ ہے اور بلوط کی لکڑی سے بنا اندرونی حصہ بھی اچھی حالت میں موجود ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.