vosa.tv
Voice of South Asia!

ICE اہلکاروں پر مقدمات، اختیارات کے غلط استعمال پر تشویش میں اضافہ

0

امریکا میں 2020 سے اب تک کم از کم دو درجن  امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے اہلکاروں اور کنٹریکٹرز مختلف نوعیت کے جرائم میں فردِ جرم کا سامنا کر چکے ہیں۔اہلکاروں کے خلاف سامنے آنے والے مقدمات نے ادارے کے اندر احتساب اور نگرانی کے نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ایک تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ 2020 سے اب تک کم از کم دو درجن ملازمین اور کنٹریکٹرز مختلف نوعیت کے جرائم میں فردِ جرم کا سامنا کر چکے ہیں۔رپورٹ میں شامل مقدمات میں جسمانی و جنسی تشدد، رشوت ستانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور حراست میں موجود افراد کے ساتھ بدسلوکی جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔ بعض کیسز ایسے اہلکاروں سے متعلق بتائے گئے ہیں جو نگران یا تجربہ کار عہدوں پر فائز تھے۔ چند پر زیرِ حراست خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات ہیں جبکہ کچھ اہلکاروں پر گھریلو تشدد اور نشے کی حالت میں ڈرائیونگ جیسے جرائم بھی درج کیے گئے۔تحقیقی رپورٹ کے مطابق ایک اہلکار پر مالی فائدے کے بدلے حراستی احکامات ختم کرنے کا الزام عائد کیا گیا، جبکہ دیگر واقعات میں طاقت کے بے جا استعمال کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں ICE کے اختیارات اور افرادی قوت میں اضافے کے باعث مؤثر نگرانی کا نظام متاثر ہو سکتا ہے، جس سے بدعنوانی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.