خواتین کے لیے مکمل فنڈڈ STEM اسکالرشپس، عالمی تعلیم کا سنہری موقع
برطانیہ نے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھمیٹکس (STEM) کے شعبوں میں تعلیم حاصل کرنے کی خواہش رکھنے والی خواتین کے لیے 2026 کے تعلیمی سال کی مکمل فنڈڈ اسکالرشپس کے لیے درخواستیں کھول دی گئی ہیں۔
فنڈز فار این جی او نامی ویب سائٹ کے مطابق یہ پروگرام بالخصوص ترقی پذیر ممالک، بشمول بھارت پاکستان اور جنوبی ایشیائی ممالک کی طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے تاکہ ان شعبوں میں خواتین کی نمائندگی کو فروغ دیا جا سکے۔یہ بین الاقوامی اور طویل عرصے سے جاری اسکالرشپ پروگرام تعلیمی طور پر باصلاحیت اور قائدانہ صلاحیتوں کی حامل خواتین کو منتخب کرتا ہے۔ منتخب امیدواروں کو ٹیوشن فیس، رہائشی اخراجات، سفری خرچ، ویزا فیس، ہیلتھ انشورنس اور ضرورت پڑنے پر انگریزی زبان کی معاونت سمیت مکمل مالی تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔ فی اسکالرشپ مالیت تقریباً 40 ہزار پاؤنڈ تک بتائی جاتی ہے، جس سے برطانیہ میں اعلیٰ تعلیم مزید قابلِ رسائی ہو جاتی ہے۔اس پروگرام کے تحت طالبات کو دنیا کی ممتاز جامعات میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے، جو تحقیق، جدت اور عملی سیکھنے کے لیے مشہور ہیں۔ یہاں حاصل کی گئی ڈگریاں عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہوتی ہیں، جو پیشہ ورانہ کیریئر کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی تجربہ حاصل کرنے میں مدد دیتی ہیں۔تعلیم کے ساتھ ساتھ یہ پروگرام پیشہ ورانہ ترقی اور نیٹ ورکنگ پر بھی زور دیتا ہے۔ اسکالرز ایک عالمی سابق طالبات و طلبہ نیٹ ورک کا حصہ بنتی ہیں، جس سے مستقبل میں تحقیقی، پیشہ ورانہ اور باہمی تعاون کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ اہلیت کے لیے درخواست گزار کا خاتون ہونا، پوسٹ گریجویٹ داخلے کے تقاضے پورے کرنا، مالی ضرورت ظاہر کرنا اور STEM شعبوں میں کام کرنے کا واضح عزم رکھنا ضروری ہے۔ امیدواروں کو پہلے متعلقہ تعلیمی پروگرام میں داخلے کے لیے درخواست دینا ہوگی، جس کے بعد اسکالرشپ کی علیحدہ درخواست جمع کرانا ہوگی۔درخواستوں کی آخری تاریخ عموماً اپریل میں ہوتی ہے، اس لیے دلچسپی رکھنے والی امیدواروں کو جلد تیاری شروع کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ مکمل مالی معاونت اور خواتین کو بااختیار بنانے کے واضح مقصد کے ساتھ یہ اسکالرشپ پروگرام STEM کیریئرز میں صنفی توازن بہتر بنانے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔