جیفری ایپسٹین سے متعلق فائلوں کے منظرِ عام پر آنے کے بعد عالمی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے، جس کے نتیجے میں برطانیہ اور ناروے میں اعلیٰ سطح پر استعفے سامنے آئے ہیں۔
برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کے چیف آف اسٹاف مورگن مک سویینی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ مورگن مک سویینی نے کہا کہ انہوں نے پیٹر مینڈلسن کو امریکا میں برطانیہ کا سفیر مقرر کرنے کا مشورہ دیا تھا، جس کی وہ مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ پیٹر مینڈلسن کے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ قریبی روابط سامنے آنے کے بعد یہ فیصلہ شدید تنقید کی زد میں آ گیا۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا میں جاری کی گئی نئی ایپسٹین فائلوں میں لیبر پارٹی کے سینئر رہنما پیٹر مینڈلسن اور ایپسٹین کے تعلقات کی نوعیت پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ان انکشافات کے بعد وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کو اقتدار سنبھالنے کے بعد اب تک کے سب سے بڑے سیاسی بحران کا سامنا ہے۔مورگن مک سویینی، جنہیں کیئر اسٹارمر کی سیاسی کامیابی کا اہم معمار سمجھا جاتا تھا، نے اکتوبر 2024 میں چیف آف اسٹاف کا عہدہ سنبھالا تھا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ پیٹر مینڈلسن کی تقرری نے عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچایا اور یہ فیصلہ درست نہیں تھا۔امریکا میں فائلوں کے اجراء کے بعد پولیس نے سرکاری عہدے کے غلط استعمال کے الزامات پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ فائلوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پیٹر مینڈلسن نے 2009 اور 2010 کے عالمی مالیاتی بحران کے دوران بطور سرکاری وزیر حساس معلومات جیفری ایپسٹین کو فراہم کیں۔دوسری جانب ناروے کی وزارتِ خارجہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ معروف سفارتکار مونا جول نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وزارت کے مطابق مونا جول کے جیفری ایپسٹین سے روابط سامنے آنے کے بعد انہیں اردن اور عراق میں ناروے کی سفیر کے عہدے سے معطل کیا گیا تھا جبکہ معاملے کی اندرونی تحقیقات بھی شروع کی گئی تھیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق ایپسٹین فائلوں کے انکشافات کے بعد مزید شخصیات کے کردار پر بھی سوالات اٹھنے کا امکان ہے، جس سے آنے والے دنوں میں عالمی سیاست میں مزید ہلچل پیدا ہو سکتی ہے۔