نیویارک(ویب ڈیسک) نیویارک سٹی کے میئر زوہران کوامے ممدانی اور محکمہ سوشل سروسز (DSS) کی کمشنر مولی پارک نے اپر مین ہیٹن میں سنگل روم طرز کے نئے ہنگامی شیلٹر یونٹس قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جو بے گھر اور سڑکوں پر رہنے والے افراد کے لیے دستیاب ہوں گے۔
نیویارک میئر آفس کی آفیشل ویب سائٹ پر جاری خبر کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شہر کو ممکنہ طور پر تاریخی درجے کی شدید سردی کا سامنا ہے اور انتظامیہ مکمل حکومتی سطح پر ہنگامی ردعمل دے رہی ہے۔ یہ یونٹس خاص طور پر ان افراد کے لیے بنائے گئے ہیں جو مشترکہ کمروں والے شیلٹرز میں جانے سے ہچکچاتے ہیں۔میئر ممدانی کا کہنا ہے کہ خطرناک سرد موسم کے دوران ان کی انتظامیہ چوبیس گھنٹے کام کر رہی ہے تاکہ شہریوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔ ان کے مطابق سنگل روم سہولتیں فراہم کر کے ان رکاوٹوں کو دور کیا جا رہا ہے جو بہت سے بے گھر افراد کو اندر آنے سے روکتی ہیں۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ گھروں میں رہیں، اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھیں اور ضرورت مند افراد کی اطلاع 311 پر دیں۔ 19 جنوری سے تیز رفتار آؤٹ ریچ مہم کے نتیجے میں 860 سے زائد بے گھر افراد کو مختلف شیلٹرز میں منتقل کیا جا چکا ہے۔کوڈ بلیو کے نفاذ کے تحت شہر بھر میں آؤٹ ریچ ٹیموں نے سرگرمیاں بڑھا دی ہیں تاکہ کمزور اور بے سہارا افراد کو شیلٹر، سیف ہیون مراکز، ڈراپ اِن سینٹرز اور وارمنگ بسوں تک پہنچایا جا سکے۔ NYC ہیلتھ اینڈ ہاسپٹلز کے موبائل پروگرام کے تحت 20 رات بھر چلنے والی موبائل وارمنگ یونٹس تعینات کی گئی ہیں، جو طبی امداد اور گرم جگہوں تک رسائی فراہم کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ 20 وارمنگ بسیں اسپتالوں، سب وے اسٹیشنز اور دیگر مقامات کے قریب کھڑی کی گئی ہیں جبکہ متعدد اسپتالوں اور کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز میں اضافی وارمنگ سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔