امریکا میں ریکارڈ توڑ برفباری اور یخ بستہ ہواؤں نے معمولاتِ زندگی مفلوج کر دیے ہیں جبکہ مختلف حادثات اور موسم سے متعلق واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 65 تک پہنچ گئی ہے۔
شدید سردی کی اس لہر نے ملک کے مشرقی اور وسطی حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جہاں درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے کافی نیچے گر چکا ہے۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شکاگو میں درجہ حرارت منفی 14 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ کلیولینڈ میں منفی 11 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ شدید برفباری کے باعث سڑکیں برف سے ڈھک گئیں، ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی اور کئی علاقوں میں روزمرہ سرگرمیاں معطل ہو کر رہ گئیں۔ ٹینیسی اور مسیسیپی میں ایک لاکھ سے زائد صارفین بجلی سے محروم ہیں، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔برفانی طوفان کے باعث فضائی سفر بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ امریکن ایئر لائنز کی 653 پروازیں منسوخ جبکہ 1077 تاخیر کا شکار ہوئیں۔ ڈیلس فورٹ ورتھ ایئرپورٹ سمیت متعدد ہوائی اڈوں پر فلائٹ آپریشن متاثر ہے۔ ایئر لائنز نے آپریشن بحال رکھنے کے لیے عملے کو اضافی شفٹس پر ڈبل تنخواہ کی پیشکش بھی کی ہے۔محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ نیویارک اور نیو جرسی میں مزید تیز اور برفیلی ہوائیں چلنے کا امکان ہے جبکہ سردی کی یہ شدید لہر آئندہ ہفتے تک برقرار رہ سکتی ہے۔ حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی ہے تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔