امریکا میں جھینگے کی 8 ارب ڈالر کی درآمدی مارکیٹ سے پاکستان کتنا فائدہ اٹھا سکتا ہے؟
نیویارک:(نمائندہ خصوصی)پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رانا محمو دالحسن کا کہنا ہے کہ امریکا میں جھینگوں کی سالانہ آٹھ ارب ڈالرکی درآمدی مارکیٹ سے فائدہ اٹھانے کے لیے ان کی حکومت نے جھینگوں کی پیداوار بڑھانے کے منصوبوں پر کام شروع کردیا ہے ۔ صرف پنجاب میں ساڑھے 9 لاکھ ایکٹر زمین ایسی ہے جہاں نمکین پانی میں جھینگے کی پیداوار ہوسکتی ہے ۔کوشش کریں گے کہ ملک بھر میں پیداوار بڑھا کر امریکی منڈی میں بھارت کو شکست دیں۔
امریکن پاکستانی پبلک افیئر زکمیٹی نے پاکستان سے پارلیمانی دورے پر امریکا آئے ہوئے سینیٹر رانا محمود الحسن کے اعزاز میں چیئرمین ڈاکٹر اعجاز احمد کی نیویارک میں رہائش گاہ پر عشائیہ کا اہتمام کیا۔ڈاکٹر اعجاز احمد نے اپنی تنظیم اور ممبران کا تعارف کرایا۔ملاقات میں پاک امریکا تعلقات، پاکستان کی سیاسی و اقتصادی صورتحال پر تبادلہ خیال کیاگیا۔اس موقع پر سینیٹر محمود الحسن کا کہنا تھا کہ امریکا میں جھینگوں کی درآمدی منڈی میں 8 ارب ڈالر کی گنجائش ہے جس سے پاکستان بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے ۔
عشائیے میں اے پی پیک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز، ممبران اور پاکستانی امریکن کمیونٹی کی نمایاں شخصیات بھی شریک تھیں۔ سینیٹر محمود الحسن نے اے پی پیک کی کاوشوں کی ستائش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں، ہم چاہتے ہیں امریکا کے ساتھ تعلقات مزید بہتر ہوں۔
ملاقات میں اے پی پیک کے رہنماوں ڈاکٹر ہادی ، اطہر ترمذی، ناہید بھٹی، اسد چودھری اور دیگر نے اے پی پیک کے قیام کے اغراض و مقاصد اور اس کی کامیابیوں پر روشنی ڈالی ۔مقررین کا کہنا تھا کہ امریکا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی اہمیت اب بڑھ گئی ہے ۔اس لیے ضروری ہے کہ وہ یہاں کی شہری، ریاستی اور وفاقی سطح کی سیاست میں شامل ہوں۔اس موقع پر اے پی پیک کے عہدیداران کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی کمیونٹی کی یہاں کی سیاست میں نمائندگی ہونی چاہیے،سیاسی نظام میں شمولیت اور مستحکم تعلقات سے مسائل حل ہوسکتے ہیں ۔
عشائیے میں ڈاکٹر غلام مجبتیٰ، سرور چودھری، تنویر چودھری سمیت پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ اور کمیونٹی رہنما بھی شریک تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اوور سیز پاکستانیوں کا ملکی ترقی میں اہم کردار ہے ۔ پاکستان میں جمہوری نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، امریکا میں پاکستانی نوجوان یہاں کی سیاست میں شامل ہوئے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتے۔اس موقع پر دیگر مقررین نے بھی اظہار ِ خیال کیا اور چیئر مین ڈاکٹر اعجاز احمد کی قیادت میں اے پی پیک کی خدمات کو سراہا۔قبل ازیں سینیٹر محمود الحسن نے اے پی پیک کو دورہ پاکستان کی دعوت دی جس ٌپر چیئرمین ڈاکٹر اعجاز احمد کا کہنا تھا کہ مستقبل قریب میں اے پی پیک کا وفد امریکی کانگریس مین اور ڈپٹی اسپیکر کے ہمراہ پاکستان کا دورہ کرے گا۔