امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شہروں میں سخت گیر امیگریشن کارروائیوں کے خلاف ردعمل شدت اختیار کر گیا ہے، خاص طور پر منیاپولس میں وفاقی اہلکاروں کی فائرنگ سے الیکس پریٹی کی ہلاکت کے بعد صورتحال نے سیاسی اور قانونی رخ اختیار کر لیا ہے۔ بڑھتے عوامی غصے، اپنی ہی جماعت کے قانون سازوں کے تحفظات اور ممکنہ عدالتی فیصلوں کے باعث انتظامیہ کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنا پڑ رہی ہے۔
منیاپولس کے میئر جیکب فری نے اعلان کیا ہے کہ منگل سے شہر میں تعینات کچھ وفاقی اہلکاروں کی تعداد کم کی جائے گی۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے بھی پریٹی کی ہلاکت کو “المیہ” قرار دیتے ہوئے نرم لہجہ اختیار کیا، جبکہ اس سے قبل انتظامیہ کے بعض عہدیدار مقتول کے بارے میں سخت بیانات دے چکے تھے۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اس واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں اور سرحدی امور کے انچارج ٹام ہومن کو مینی سوٹا بھیج رہے ہیں۔دوسری جانب ایک وفاقی جج نے بھی منیاپولس میں وفاقی اہلکاروں کی اضافی تعیناتی کے خلاف دلائل سنے ہیں، تاہم فوری فیصلہ متوقع نہیں۔ گورنر ٹم والز اور صدر ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا جسے دونوں جانب سے مثبت قرار دیا گیا۔ گورنر آفس کے مطابق وفاقی اہلکاروں کی تعداد کم کرنے اور ریاستی حکام کے ساتھ بہتر رابطہ کاری پر بات ہوئی ہے۔الیکس پریٹی کی ہلاکت کے بعد شہر میں احتجاجی مظاہرے، یادگاری تقاریب اور کمیونٹی سرگرمیاں جاری ہیں۔ شہری تنظیمیں مبینہ امیگریشن چھاپوں کی نگرانی کر رہی ہیں اور خوف کے باعث گھروں میں مقیم خاندانوں تک خوراک اور ضروری سامان پہنچا رہی ہیں۔ مقامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ تشدد کے باوجود کمیونٹی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔واشنگٹن میں بھی اس واقعے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے جہاں کئی ریپبلکن اراکین کانگریس نے وفاقی امیگریشن حکمت عملی پر مزید تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ہاؤس ہوم لینڈ سکیورٹی کمیٹی کے چیئرمین سمیت متعدد سینیٹرز اور ارکان نے متعلقہ اداروں سے وضاحت طلب کی ہے۔ ڈیموکریٹس نے خبردار کیا ہے کہ اگر امیگریشن کارروائیوں سے متعلق اصلاحات شامل نہ کی گئیں تو وہ محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی مزید فنڈنگ کی حمایت نہیں کریں گے، جس سے حکومتی فنڈنگ کے معاملے پر سیاسی تعطل کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔