vosa.tv
Voice of South Asia!

امیگریشن کریک ڈاؤن کے دوران فائرنگ، وفاقی اور ریاستی حکام آمنے سامنے

0

منیاپولس میں وفاقی امیگریشن اہلکاروں کی فائرنگ سے ایک شخص کی ہلاکت کے بعد امریکی وفاقی اور ریاستی حکام کے درمیان شدید لفظی اور سیاسی کشیدگی سامنے آ گئی ہے، جہاں دونوں جانب سے اخلاقی برتری کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ اس واقعے کے بعد شہر اور اس کے گرد و نواح میں امیگریشن کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ مزید تیز ہو گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق واقعے کے بعد شہر اور گرد و نواح میں بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے میں آئے، جبکہ امیگریشن پالیسی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار پر قومی سطح پر بحث تیز ہو گئی ہے۔مینیسوٹا کے گورنر ٹِم والز نے وفاقی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے عوام سے سوال کیا کہ آیا وہ ایک ایسی طاقتور وفاقی حکومت کا ساتھ دینا چاہتے ہیں جو شہریوں کو سڑکوں سے اٹھا سکتی ہے یا پھر ایک ایسے شہری کے ساتھ کھڑے ہونا چاہتے ہیں جو مبینہ طور پر سرکاری زیادتی کا نشانہ بنا۔ ان کے یہ بیانات 37 سالہ الیکس پریٹی کی ہلاکت کے بعد سامنے آئے، جنہیں ہفتے کے روز بارڈر پیٹرول کے ایک اہلکار نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔دوسری جانب وفاقی حکام نے فائرنگ کا ذمہ دار خود مقتول کو قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی کارروائی میں مداخلت کی۔ بارڈر پیٹرول کے ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ ایسے حالات میں کیے گئے فیصلے افراد کی اپنی ذمہ داری ہوتے ہیں۔ تاہم عینی شاہدین کی ویڈیوز اور اے پی کی جانب سے جائزہ لی گئی فوٹیج میں اس سرکاری مؤقف سے اختلاف سامنے آیا ہے، جن میں مقتول کو محض موبائل فون تھامے دکھایا گیا ہے، نہ کہ کسی ہتھیار کے ساتھ۔پریٹی کے اہلِ خانہ نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکام کے بیانات کو جھوٹ اور توہین آمیز قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ الیکس نہ صرف ایک لائسنس یافتہ نرس تھا بلکہ اس نے کسی اہلکار پر حملہ نہیں کیا۔ ادھر ریاستی حکام نے شواہد محفوظ رکھنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے، جبکہ ایک وفاقی جج نے فائرنگ سے متعلق شواہد ضائع یا تبدیل کرنے سے روکنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ واقعے کے بعد نیشنل گارڈ کو بھی عارضی طور پر تعینات کیا گیا، جبکہ شہر میں احتجاج، دعائیہ اجتماعات اور یادگاری تقریبات کا سلسلہ جاری ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.