امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کو ممکنہ دشمنانہ حملوں سے محفوظ بنانے کے لیے ایک نئے دفاعی منصوبے پر کام کر رہے ہیں، جسے انہوں نے ’گولڈن ڈوم فار امریکا‘ کا نام دیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس نظام کی تنصیب کے بعد امریکا روس، چین اور شمالی کوریا سمیت دیگر دشمن ممالک کے میزائل حملوں سے مکمل طور پر محفوظ ہو جائے گا۔صدر ٹرمپ نے گزشتہ برس 27 جنوری کو ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے اس منصوبے کا اعلان کیا تھا اور اسے امریکی قومی سلامتی کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی کامیابی کے لیے گرین لینڈ کا کردار کلیدی ہے، اسی لیے وہ اس جزیرے کو حاصل کرنے پر بھی زور دیتے رہے ہیں۔’گولڈن ڈوم‘ دراصل ایک جدید، ملٹی لیئر میزائل ڈیفنس سسٹم ہے، جس کا مقصد دشمن کے ہر قسم کے فضائی اور میزائل حملوں کو ناکام بنانا ہے۔ امریکی کانگریس کی رپورٹس کے مطابق اس نظام میں زمین، سمندر اور خلا میں نصب سینسرز، ریڈارز اور جدید ٹیکنالوجیز کو یکجا کیا جائے گا، جو میزائل کو داغے جانے سے لے کر ہدف تک پہنچنے کے کسی بھی مرحلے پر تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوگا۔یہ امریکا کا پہلا دفاعی نظام ہوگا جو خلا میں نصب انٹرسیپٹرز اور ہتھیاروں کے ذریعے دشمن کے میزائلوں کو فضا میں ہی نشانہ بنا سکے گا۔ اس نظام میں جدید لیزر ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جائے گا، جس کے ذریعے کسی بھی میزائل کی سمت، رفتار اور ہدف کا فوری تعین کر کے بروقت کارروائی ممکن ہو سکے گی۔منصوبے کے تحت جیسے ہی کوئی میزائل امریکا کی جانب داغا جائے گا، خلا میں موجود سیٹلائٹس اس کے انجن سے خارج ہونے والی حرارت کو محسوس کر کے زمین پر موجود ریڈارز کو الرٹ کر دیں گے۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے فوری فیصلہ کیا جائے گا کہ میزائل کہاں گرے گا اور اسے روکنے کے لیے کون سا دفاعی ہتھیار استعمال کیا جائے۔وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ کا ہدف ہے کہ گولڈن ڈوم منصوبہ 2029 تک مکمل طور پر فعال ہو جائے، جبکہ اس پر ابتدائی طور پر 175 ارب ڈالر لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ تاہم بعض ماہرین کے مطابق اس منصوبے کی مجموعی لاگت 800 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔گرین لینڈ کو اس منصوبے کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یہ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور اپنی اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت کے باعث غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ جغرافیائی طور پر یہ شمالی امریکا میں واقع ہے، مگر سیاسی طور پر ڈنمارک کا خودمختار علاقہ ہے۔ یہ جزیرہ شمالی امریکا، یورپ اور آرکٹک خطے کے درمیان فضائی اور بحری راستوں کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر روس امریکا پر میزائل داغے تو سب سے مختصر راستہ گرین لینڈ کے قریب سے گزرتا ہے۔ ایسی صورت میں گرین لینڈ میں گولڈن ڈوم کی تنصیب امریکا کو یہ موقع فراہم کرے گی کہ وہ میزائلوں کو اپنی سرزمین تک پہنچنے سے پہلے ہی فضا میں تباہ کر دے۔گرین لینڈ میں امریکا کا فوجی اڈہ پہلے ہی موجود ہے، جو امریکا اور ڈنمارک کے درمیان 1951 کے دفاعی معاہدے کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ یہاں نصب ریڈارز ہزاروں کلومیٹر دور سے دشمن میزائلوں اور آبدوزوں کی نقل و حرکت کا پتہ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے امریکا کو بروقت دفاعی ردعمل کا موقع ملتا ہے۔صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ گولڈن ڈوم جیسا پیچیدہ نظام اسی صورت میں مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کر سکتا ہے جب گرین لینڈ اس کا حصہ ہو۔ ان کے مطابق کرائے یا لیز پر حاصل کی گئی زمین کے بجائے گرین لینڈ کی ملکیت سے امریکی دفاع کو زیادہ مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔تاہم گرین لینڈ اور ڈنمارک نے تاحال اس منصوبے کی اجازت نہیں دی۔ دونوں حکومتوں کا مؤقف ہے کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے اور اس کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، اگرچہ سیکیورٹی اور معاشی تعاون جیسے دیگر معاملات پر بات چیت ممکن ہے۔دوسری جانب چین اور روس نے بھی گولڈن ڈوم منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ خلا کو میدانِ جنگ بنانے کے مترادف ہے اور آؤٹر اسپیس ٹریٹی 1967 کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے، جبکہ چین اور روس ماضی میں اسے عالمی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکے ہیں۔