امریکا میں ایک بڑے برفانی طوفان کے باعث ملک کی نصف سے زائد آبادی کو شدید سردی، برف اور برفانی بارش کے خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
امریکی محکمۂ موسمیات کے مطابق ٹیکساس سے لے کر نیو انگلینڈ تک پھیلا یہ سسٹم برف، اولے، جماؤ والی بارش اور خطرناک حد تک کم درجۂ حرارت لے کر آ رہا ہے، جس سے بڑے پیمانے پر بجلی کی بندش اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ بعض علاقوں میں برفانی تباہی کی شدت سمندری طوفان کے برابر ہو سکتی ہے۔رپورٹس کے مطابق کم از کم 18 کروڑ 20 لاکھ افراد برف اور برفانی بارش کے وارننگ زون میں ہیں جبکہ 21 کروڑ سے زائد افراد کو شدید سردی کے انتباہ جاری کیے گئے ہیں۔ شکاگو اور مڈویسٹ کے دیگر شہروں میں اسکول بند کر دیے گئے ہیں، ہزاروں پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں، جبکہ کئی ریاستوں میں چرچ سروسز آن لائن منتقل کر دی گئی ہیں اور تفریحی تقاریب منسوخ یا ملتوی کی جا رہی ہیں۔ ٹیکساس کے مختلف حصوں میں سڑکیں پھسلن کا شکار ہیں اور بجلی فراہم کرنے والی کمپنیاں آئس سے لدی تاروں اور درختوں کے گرنے کے خدشے کے باعث ہنگامی تیاریوں میں مصروف ہیں۔کینیڈا سے آنے والی انتہائی سرد ہواؤں کے باعث بعض علاقوں میں درجۂ حرارت منفی 40 ڈگری فارن ہائیٹ تک گر گیا ہے، جہاں چند منٹ میں فراسٹ بائٹ کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ نارتھ ڈکوٹا، مشی گن اور شکاگو جیسے شہروں میں جھیلوں کے کنارے مکمل طور پر برف سے ڈھک چکے ہیں، جبکہ اوکلاہوما اور دیگر جنوبی ریاستوں میں نیشنل گارڈ کو متحرک کر دیا گیا ہے تاکہ سڑکوں پر پھنسے افراد کی مدد کی جا سکے۔ فیڈرل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی نے لاکھوں کھانے، کمبل اور جنریٹرز متاثرہ علاقوں میں پہلے ہی پہنچا دیے ہیں۔موسم بہتر ہونے کے بعد بھی خطرات برقرار رہنے کی توقع ہے کیونکہ برف بجلی کی لائنوں پر اضافی وزن ڈال کر انہیں گرانے کا سبب بن سکتی ہے اور پائپ جم سکتے ہیں۔ حکام نے عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز، گھروں میں رہنے اور ہنگامی سامان تیار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔