امریکی امیگریشن چھاپے، منی سوٹا میں 5 سالہ بچے کی حراست
امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے اہلکاروں نے منی سوٹا میں جاری امیگریشن کارروائیوں کے دوران پری اسکول سے گھر واپس آنے والے پانچ سالہ بچے کو حراست میں لے لیا، جس پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔
خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق اسکول حکام کا کہنا ہے کہ بچے کو مبینہ طور پر اس کے والد کی گرفتاری کے لیے “بطور جال” استعمال کیا گیا، جبکہ والد کی امریکہ میں پناہ کی درخواست زیرِسماعت ہے۔کولمبیا ہائٹس پبلک اسکولز کی سپرنٹنڈنٹ زینا اسٹینوک نے بتایا کہ منگل کی دوپہر اہلکاروں نے بچے لیام کونیخو راموس کو گھر کے ڈرائیو وے میں کھڑی گاڑی سے لے لیا اور پھر اسے دروازہ کھٹکھٹانے کو کہا تاکہ گھر میں موجود افراد کے بارے میں معلوم کیا جا سکے۔ ان کے بقول خاندان 2024 میں امریکہ آیا تھا اور اسے ملک چھوڑنے کا کوئی حکم جاری نہیں ہوا تھا۔محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی ترجمان ٹریشیا مکلافلن نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ICE نے بچے کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ والد کی گرفتاری کے دوران بچے کی حفاظت کو یقینی بنایا گیا۔ ترجمان کے مطابق والدین کو یہ اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ ملک بدری کا انتخاب کریں یا انہیں کسی منتخب شخص کے سپرد کریں۔خاندانی وکیل کے مطابق بچے اور اس کے والد کو ٹیکساس کے ڈیلی میں امیگریشن حراستی مرکز منتقل کیا گیا ہے، جہاں انہیں خاندانی سیل میں رکھا گیا ہوگا۔ انسانی حقوق کے وکلا اور کارکنوں نے ان مراکز میں حالات کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں میں بیماریوں اور غذائی قلت کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔