نیویارک سٹی میں ممدانی انتظامیہ نے ہوٹلوں میں مسافروں سے وصول کی جانے والی خفیہ اضافی فیسوں اور غیر متوقع کریڈٹ کارڈ ہولڈز یا ڈپازٹس پر باضابطہ طور پر پابندی عائد کر دی ہے۔
اس فیصلے کے تحت وہ فیسیں، جنہیں اکثر “ڈیسٹینیشن فیس”، “ریزورٹ فیس” یا “ہاسپیٹیلٹی سروس فیس” کے نام سے ظاہر کیا جاتا تھا، اب غیر قانونی تصور ہوں گی۔ یہ نیا ضابطہ 21 فروری 2026 سے نیویارک سٹی میں نافذ العمل ہوگا۔میئر زوہرن کوامے ممدانی نے ڈیپارٹمنٹ آف کنزیومر اینڈ ورکر پروٹیکشن (DCWP) کے کمشنر سیم لیون، کاروباری، صارفین اور مزدور تنظیموں کے رہنماؤں کے ہمراہ اس حتمی قانون کا اعلان کیا۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد صارفین کو شفاف معلومات فراہم کرنا اور ایماندار چھوٹے کاروباروں کو تحفظ دینا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس پابندی سے 2026 میں صارفین کو مجموعی طور پر 46 ملین ڈالر سے زائد کی بچت ہو سکتی ہے۔انتظامیہ کے مطابق ہوٹلوں کی جانب سے اشتہار میں ایک بنیادی کمرہ کرایہ ظاہر کیا جاتا تھا، جبکہ بعد میں لازمی اضافی چارجز سامنے آتے تھے، جس سے صارفین کو اصل لاگت کا اندازہ نہیں ہو پاتا تھا۔ اسی طرح متعدد ہوٹل بغیر واضح شرائط کے کریڈٹ کارڈ پر غیر متوقع ہولڈ یا ڈپازٹ بھی عائد کرتے تھے۔ صرف 2025 میں DCWP کو خفیہ ہوٹل فیسوں اور اچانک ہولڈز سے متعلق 300 سے زائد شکایات موصول ہوئیں۔میئر زوہرن ممدانی نے کہا کہ چاہے کوئی نیویارک سٹی کا دورہ کر رہا ہو یا شہر سے باہر سفر پر جا رہا ہو، اسے ابتدا ہی میں ہوٹل کی مکمل قیمت جاننے کا حق حاصل ہے۔ ان کے مطابق یہ قانون ہر سال لاکھوں ڈالر کی بچت کو یقینی بنائے گا۔