صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے ایک سال مکمل ہونے پر نیویارک اور ملک بھر میں ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف مظاہرے ہوئے، کہا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سال کو “درد اور انتشار” کا سال سمجھتے ہیں. جبکہ صدر نے اپنی دوسری مدتِ صدارت کے ایک سال مکمل ہونے پر اپنی کارکردگی کو سراہا۔
منگل کے روز صدر ٹرمپ نے ایک نیوز کانفرنس میں امیگریشن اور دیگر اقدامات کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ نے خطرناک مجرموں کو ملک سے نکالا، اور اس کی ذمہ داری سابق صدر جو بائیڈن کی پالیسیوں پر ڈالی۔اسی دوران مین ہیٹن کے برائنٹ پارک میں مظاہرین جمع ہوئے اور بعد ازاں ففتھ ایونیو پر مارچ کیا، جبکہ دن کے آغاز میں ٹرمپ ٹاور کے باہر بھی احتجاج کیا گیا۔ منتظمین کے مطابق نیویارک سٹی میں درجن بھر کے قریب مظاہرے ہوئے، جبکہ ملک بھر میں ایسے احتجاجات کی تعداد تقریباً 600 بتائی جا رہی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سال کو “درد اور انتشار” کا سال سمجھتے ہیں اور عدالتوں کی مبینہ نافرمانی، ڈیپورٹیشنز، شہری حقوق پر حملوں اور اتحادی ممالک سے کشیدگی کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔احتجاج کرنے والوں نے خاص طور پر امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی کارروائیوں اور گرین لینڈ سے متعلق صدر کے مؤقف پر شدید تنقید کی۔ بعض مظاہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ منی ایپلس میں ہونے والا حالیہ واقعہ صرف آغاز ہے اور آئندہ ایسی کارروائیاں نیویارک جیسے شہروں تک پھیل سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ طویل جدوجہد کے لیے تیار ہیں اور صدر کی پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر آنا ناگزیر ہو چکا ہے۔