برطانوی دفتر خارجہ نے ایران اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر 16 ممالک کے لیے سفری انتباہ جاری کر دیا ہے، جس کے بعد برطانوی مسافروں میں بے چینی اور تشویش پائی جا رہی ہے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق دفتر خارجہ نے سیاحوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بیرونِ ملک سفر اور تعطیلات کے دوران غیر معمولی احتیاط اختیار کریں۔ انتباہ میں کہا گیا ہے کہ ایران میں ملک گیر مظاہروں، تہران میں پُرتشدد کریک ڈاؤن اور امریکا کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کے باعث سکیورٹی صورتِ حال مزید سنگین ہو گئی ہے، جس سے خطے بھر میں خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔دفتر خارجہ کے مطابق قبرص، مصر اور دبئی جیسے مقبول سیاحتی مقامات سمیت ترکیہ، سعودی عرب، شام، قطر، عمان، لیبیا، لبنان، کویت، عراق، اردن، بحرین، یمن اور ایران میں سفر کرنے والے برطانوی شہریوں کو خاص طور پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے فضائی حدود کی اچانک بندش کے باعث بین الاقوامی پروازیں متاثر ہوئیں اور سیاحوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اگرچہ بعض مقامات پر فضائی آپریشن عارضی طور پر بحال کیا گیا ہے۔برطانوی دفتر خارجہ نے زور دیا ہے کہ مسافر مشرق وسطیٰ اور قریبی ممالک کا سفر کرتے وقت اپنی ذاتی سلامتی کے انتظامات پر خصوصی توجہ دیں اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال کے لیے تیار رہیں۔ حکام کے مطابق اس انتباہ کے نتیجے میں چھٹیاں منانے والے لاکھوں سیاح متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ برطانوی مسافر مستقبل کے سفری منصوبوں کے حوالے سے شدید تشویش کا شکار ہیں۔