اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر عاصم افتخار احمد نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آٹھ دہائیاں قبل عالمی برادری نے طاقت کے قانون کے بجائے قانون کی طاقت کو تسلیم کرنے، تصادم کے بجائے مکالمے کو فروغ دینے اور عالمی امن و سلامتی کو انصاف، تعاون اور اجتماعی ذمہ داری سے جوڑنے کا تاریخی فیصلہ کیا تھا، جو آج بھی اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی صورت میں عالمی نظام کی بنیاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی 80ویں سالگرہ محض ایک یادگاری موقع نہیں بلکہ سنجیدہ غور و فکر اور نئے عزم کی متقاضی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب دنیا کے مختلف خطوں میں تنازعات میں اضافہ ہو رہا ہے، ریاستوں کے درمیان اعتماد کمزور پڑ رہا ہے اور بین الاقوامی قانون پر عملدرآمد اکثر منتخب انداز میں کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ چارٹر آج بھی متعلقہ ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا عالمی برادری اسے مستقل مزاجی، جرات اور سیاسی عزم کے ساتھ نافذ کرنے کے لیے تیار ہے۔سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ تنازعات کی روک تھام اور حل کے طریقوں پر ازسرِنو غور کا مطلب اقوامِ متحدہ کے چارٹر کو دوبارہ لکھنا یا اس کے اصولوں کی نئی تشریح کرنا نہیں، کیونکہ چارٹر کی دانش وقت کی کسوٹی پر خود کو ثابت کر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ چارٹر پر عملی طور پر، بروقت، غیرجانبدارانہ اور مؤثر انداز میں عمل کیا جائے تاکہ تنازعات کو بحرانوں اور انسانی المیوں میں تبدیل ہونے سے پہلے روکا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ سفارت کاری کو عسکریت، ثالثی کو جبر اور بین الاقوامی قانون کو طاقت کی سیاست پر فوقیت دی جانی چاہیے۔انہوں نے 2024 میں منعقد ہونے والی سمٹ آف دی فیوچر میں منظور کیے گئے “پیکٹ فار دی فیوچر” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دستاویز تنازعات کی روک تھام، اعتماد سازی اور جامع مکالمے کو کثیرالجہتی نظام کے بنیادی ستون قرار دیتی ہے، جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اصل وژن سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 کو بھی نمایاں کیا، جو جولائی 2025 میں پاکستان کی صدارت کے دوران اتفاقِ رائے سے منظور ہوئی۔ ان کے مطابق یہ قرارداد اقوامِ متحدہ کے امن و سلامتی کے طریقہ کار کو متوازن بنانے کی ایک اہم اجتماعی کوشش ہے، جس کے تحت تنازعات کے پُرامن حل، مکالمے، مذاکرات اور ثالثی کو دوبارہ مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ قرارداد اس بات پر زور دیتی ہے کہ سلامتی کونسل ابتدائی مرحلے پر ہی ان ذرائع کو بروئے کار لائے تاکہ تنازعات کو جنگ میں بدلنے سے روکا جا سکے۔سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ قرارداد 2788 نے سلامتی کونسل کے کام میں تنازعات کی روک تھام کے پہلو کو مضبوط کیا ہے، جس میں سیکریٹری جنرل، علاقائی اور ذیلی علاقائی تنظیموں کے ساتھ قریبی تعاون، اعتماد سازی کے اقدامات اور ثالثی کی حمایت شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پائیدار امن طاقت کے ذریعے مسلط نہیں کیا جا سکتا بلکہ جامع سیاسی عمل ہی اس کی ضمانت ہے، جو تنازعات کی بنیادی وجوہات کو حل کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کے غیر مستحکم اور منقسم عالمی ماحول میں مکالمہ کمزوری نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت ہے، اور تنازعات کا پُرامن حل آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا اقوامِ متحدہ کے قیام کے وقت تھا۔