نیویارک سٹی انتظامیہ نے ڈیلیوری ورکرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے سخت کارروائی کرتے ہوئے موٹوکِلک نامی ڈیلیوری ایپ اور اس کے چیف ایگزیکٹو کے خلاف نیویارک اسٹیٹ سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔
میئر زوہران ممدانی کے مطابق کمپنی نے شہر میں نافذ ڈیلیوری ورکر قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں کیں، کم از کم اجرت کی پابندی پر عمل نہیں کیا اور مختلف طریقوں سے ورکرز کی آمدنی میں غیرقانونی کٹوتیاں کیں۔محکمہ صارفین و محنت کش تحفظ (ڈی سی ڈبلیو پی) کے مطابق موٹوکِلک اور اس کے سربراہ خوان پابلو سالیناس سالیک نے ڈیلیوری ورکرز سے لاکھوں ڈالر کی اجرت اور ہرجانے روکے۔ الزامات میں کہا گیا ہے کہ منسوخ شدہ آرڈرز پر ورکرز سے 10 ڈالر فیس وصول کی گئی جبکہ ریفنڈ ہونے والے آرڈرز کی مکمل رقم بھی ورکرز کی تنخواہوں سے کاٹ لی گئی۔ انتظامیہ نے عدالت سے کمپنی کی سرگرمیاں بند کرانے کی درخواست بھی کی ہے۔اسی تناظر میں ڈی سی ڈبلیو پی کے کمشنر سیم لیوین نے انسٹا کارٹ، ڈور ڈیش، گرب ہب اور اوبر سمیت دیگر بڑی ڈیلیوری ایپس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ 26 جنوری سے نافذ ہونے والے نئے قوانین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ ان قوانین میں ٹِپس کے تحفظ، اجرت کی شفافیت، کم از کم تنخواہ کے دائرہ کار میں توسیع، بروقت ہفتہ وار ادائیگی اور ڈیلیوری ورکرز کے لیے بہتر سہولیات شامل ہیں۔حکام کے مطابق حالیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ بعض ڈیلیوری ایپس نے اپنے ایپ ڈیزائن کے ذریعے ورکرز کی ٹِپس میں مجموعی طور پر 550 ملین ڈالر تک کمی کی۔ میئر ممدانی کا کہنا ہے کہ ڈیلیوری ورکرز نیویارک کے شہریوں کی روزمرہ زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاہم طویل عرصے سے استحصال کا شکار رہے ہیں، جسے اب برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انتظامیہ کے مطابق یہ کارروائی تمام ایپ بیسڈ کمپنیوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ ورکرز کے حقوق کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔