vosa.tv
Voice of South Asia!

امریکا میں مذہبی کارکنوں کے لیے ویزا ضوابط میں نرمی، انتظار کی شرط ختم

0

امریکا میں مذہبی کارکنوں کے لیے ایک اہم اور بڑی سہولت کا اعلان کر دیا گیا ہے، جس کے تحت بیرونِ ملک موجود ہزاروں مذہبی کارکنوں کے لیے ویزا کے انتظار کی مدت کم کر دی گئی ہے۔

 امریکی محکمۂ ہوم لینڈ سکیورٹی (ڈی ایچ ایس) کے مطابق اس اقدام کا مقصد مذہبی اداروں کو درپیش افرادی قوت کے بحران کو کم کرنا اور عبادت گاہوں میں مذہبی خدمات کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔ نئے عبوری حتمی ضابطے کے تحت پادریوں، راہبات، مذہبی اساتذہ اور ربیوں سمیت مذہبی کارکنوں کے لیے ایک سال تک امریکا سے باہر رہنے کی لازمی شرط ختم کر دی گئی ہے، جس سے انہیں اپنی مذہبی خدمات دوبارہ جلد انجام دینے کا موقع ملے گا۔ڈی ایچ ایس کے مطابق یہ اقدام مذہبی تنظیموں اور ان سے وابستہ کمیونٹیز کو استحکام فراہم کرے گا اور عبادت گاہوں میں خدمات کے تعطل کو کم کرے گا۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ موجودہ قیادت کے تحت مذہبی آزادی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور مذہبی کارکن امریکی معاشرتی اور اخلاقی ڈھانچے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔یہ نیا ضابطہ صدر ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر 14205 کے تحت نافذ کیا گیا ہے، جس کے تحت آر-ون (R-1) ویزا رکھنے والے مذہبی کارکن پانچ سالہ زیادہ سے زیادہ قیام مکمل کرنے کے بعد دوبارہ امریکا میں داخلے سے قبل ایک سال بیرونِ ملک گزارنے کے پابند نہیں ہوں گے۔ تاہم انہیں امریکا سے روانہ ہونا ہوگا، لیکن اب دوبارہ داخلے کے لیے کم از کم مدتِ قیام کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔امریکی حکام کے مطابق ای بی-فور (EB-4) کیٹیگری میں ویزوں کی طلب کئی برسوں سے دستیاب تعداد سے زیادہ رہی ہے، جبکہ 2023 میں کی گئی تبدیلیوں کے بعد انتظار کا دورانیہ مزید بڑھ گیا تھا۔ اس فیصلے سے مذہبی اداروں کو اپنے تجربہ کار مذہبی رہنماؤں اور کارکنوں کی کمی کا سامنا کم ہوگا۔ یہ عبوری ضابطہ فوری طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے، جبکہ عوام سے 60 دن کے اندر تحریری آراء بھی طلب کی گئی ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.