امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھوکہ دہی کے جرم میں سزا یافتہ قدرتی طور پر امریکی شہریت حاصل کرنے والے تارکینِ وطن کی شہریت منسوخ کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے سامنے آنے والے اس مؤقف کو امیگریشن پالیسی میں سخت ترین اقدامات کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے، جس پر انسانی حقوق اور قانونی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق شہریت حاصل کرنے کے عمل میں فراڈ یا غلط بیانی ثابت ہونے کی صورت میں قانونی راستہ موجود ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس بیان نے لاکھوں نیچرلائزڈ شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام کو وسیع پیمانے پر نافذ کرنا آئینی اور عدالتی چیلنجز کو جنم دے سکتا ہے۔اسی روز صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ جن ریاستوں میں سینکچوئری سٹیز قائم ہیں، انہیں وفاقی فنڈنگ سے محروم کیا جا سکتا ہے۔ اس اعلان کو امیگریشن کے حوالے سے ریاستی خودمختاری اور وفاقی اختیارات کے درمیان نئی کشمکش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔