امریکی محکمۂ انصاف نے اعلان کیا ہے کہ چین کے لیے جاسوسی کے جرم میں سزا یافتہ سابق امریکی نیوی اہلکار جنچاؤ وی (عرف پیٹرک وی) کو وفاقی عدالت نے 16 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔
25 سالہ وی کو اگست 2023 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ نیول بیس سان ڈیاگو میں یو ایس ایس ایسیکس پر ڈیوٹی کے لیے پہنچا تھا۔ وفاقی جیوری نے اگست 2025 میں اسے جاسوسی سمیت متعدد سنگین الزامات میں مجرم قرار دیا تھا۔عدالتی ریکارڈ کے مطابق جنچاؤ وی نے چین کی خفیہ ایجنسی سے وابستہ ایک افسر کو امریکی قومی دفاع سے متعلق حساس معلومات فروخت کیں، جس کے بدلے اسے 18 ماہ کے دوران 12 ہزار ڈالر سے زائد رقم دی گئی۔ ان معلومات میں امریکی بحری جہازوں کے ہتھیاروں، انجن، پاور سسٹمز، جہازوں کی لوکیشن، تکنیکی و آپریشنل مینوئلز اور دیگر حساس ڈیٹا شامل تھا، جو برآمدی قوانین کے تحت سختی سے ممنوع ہیں۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وی نے امریکی نیوی میں شمولیت کے وقت آئین سے وفاداری کا حلف اٹھایا تھا اور بعد ازاں شہریت حاصل کرنے کے بعد بھی اسی عہد کی تجدید کی، مگر اس کے باوجود اس نے ذاتی فائدے کے لیے قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا۔ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ وی کو غیر ملکی انٹیلی جنس کے بھرتی طریقوں سے متعلق باقاعدہ تربیت دی گئی تھی اور وہ خود بھی جانتا تھا کہ اس کے اقدامات جاسوسی کے زمرے میں آتے ہیں، اس کے باوجود اس نے خفیہ ایپس اور دیگر طریقوں سے اپنی سرگرمیاں چھپانے کی کوشش کی۔پانچ روزہ ٹرائل کے بعد جیوری نے وی کو جاسوسی، جاسوسی کی سازش، دفاعی معلومات کے غیرقانونی برآمدی جرائم سمیت چھ الزامات میں قصوروار قرار دیا، جبکہ شہریت میں فراڈ کے ایک الزام سے بری کر دیا گیا۔