ٹرمپ کی ’’ریورس مائیگریشن‘‘ مہم، سخت اقدامات کا عندیہ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ’’غریب ممالک سے امریکا آنے والی ہر قسم کی ہجرت کو مستقل طور پر روکنے‘‘ کا ارادہ رکھتے ہیں اور لاکھوں تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت ختم کرکے ملک سے نکالنے کی کوشش کریں گے۔
انہوں نے امریکا میں جرائم، رہائش کے بحران اور ’سماجی بگاڑ‘ کی ذمہ داری تارکینِ وطن پر عائد کرتے ہوئے ’’ریورس مائیگریشن‘‘ کا مطالبہ کیا۔ یہ سخت موقف اس فائرنگ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں وائٹ ہاؤس کے قریب گشت پر مامور ویسٹ ورجینیا نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں میں سے ایک ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوا۔حکام کے مطابق 29 سالہ افغان شہری رحمٰن اللہ لکن وال—جو افغانستان جنگ کے دوران سی آئی اے کے لیے کام کر چکا ہے—پہلے درجے کے قتل سمیت سنگین الزامات کا سامنا کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے اس واقعے کے بعد قانونی امیگریشن پر بھی سخت تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ امریکا میں بسنے والے غیر ملکی پیدائشی باشندے معاشرتی مسائل میں ’’بڑے حصے‘‘ کے ذمہ دار ہیں۔انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ دس ماہ سے جاری مہم کو مزید سخت کر کے لاکھوں قانونی تارکینِ وطن کی دوبارہ جانچ کی جائے گی۔ جمعرات کی شب اپنے طویل بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ’’صرف ریورس مائیگریشن ہی اس صورتِ حال کا مکمل علاج ہے۔‘‘ انہوں نے دھمکی دی کہ وہ بائیڈن دور میں ملک میں آنے والے لاکھوں افراد کی داخلہ منظوری منسوخ کریں گے، غیر شہریوں کے تمام وفاقی فوائد ختم کریں گے، ایسے افراد کی شہریت واپس لیں گے جو ’’قومی امن کو نقصان پہنچاتے ہیں‘‘ اور اُن تارکینِ وطن کو ملک بدر کریں گے جنہیں وہ ’’مغربی تہذیب سے غیر مطابقت رکھنے والا‘‘ قرار دیتے ہیں۔ماہرین اور اعدادوشمار ٹرمپ کے کئی دعوؤں کی تردید کرتے ہیں۔ ملک میں تقریباً پچاس ملین غیر ملکی پیدائشی باشندے موجود ہیں اور متعدد تحقیقی مطالعات کے مطابق تارکینِ وطن مقامی امریکیوں کے مقابلے میں جرائم کرنے کے امکانات کم رکھتے ہیں۔