امریکی صدر ٹرمپ نے مبینہ طور پر اپنے صدارتی دور کے اختتام پر بڑے پیمانے پر معافیاں دینے کا عندیہ دیا ہے، جس سے سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
برطانوی اخبار دی گارجین کے مطابق وہ اپنے قریبی ساتھیوں اور مشیروں کو اجتماعی طور پر معاف کرنے پر غور کر رہے ہیں۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نجی گفتگو میں مذاق یا سنجیدہ انداز میں یہ بات کہی کہ وہ اوول آفس کے قریب آنے والوں تک کو معاف کر سکتے ہیں۔ تاہم وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس بیان کو ہلکے انداز میں لیا گیا اور کہا گیا کہ صدر کے پاس معافی دینے کا آئینی اختیار مکمل طور پر موجود ہے۔اپنے دوسرے صدارتی دور کے دوران ٹرمپ پہلے ہی بڑے پیمانے پر معافیاں دے چکے ہیں، جن میں کیپیٹل حملے کے تقریباً 1500 ملزمان بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف سیاسی اور مالیاتی مقدمات میں ملوث افراد کو بھی ریلیف دیا گیا ہے، جس پر ناقدین کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔ماہرین کے مطابق اگر صدر واقعی اپنے دور کے اختتام پر اجتماعی معافیوں کا اعلان کرتے ہیں تو اس کے قانونی اور سیاسی اثرات دور رس ہو سکتے ہیں، جبکہ اس اقدام سے امریکی نظامِ انصاف اور احتساب کے عمل پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔