vosa.tv
Voice of South Asia!

کیا اسلام آباد مذاکرات مشرقِ وسطیٰ میں جاری ‘تباہ کن جنگ’ کا خاتمہ کر سکیں گے؟

0

امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات میں کئی پیچیدہ اور حساس معاملات زیرِ بحث آنے کی توقع ہے، جہاں دونوں ممالک مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے بات چیت کریں گے، تاہم اہم نکات پر شدید اختلافات بدستور موجود ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کا باقاعدہ آغاز اسی صورت ممکن ہوگا جب امریکا لبنان میں جنگ بندی اور ایران پر عائد معاشی پابندیوں کے خاتمے کی ضمانت دے۔ لبنان کی صورتحال اس مذاکرات کا مرکزی نکتہ بن چکی ہے، جہاں ایرانی مؤقف ہے کہ اسرائیلی حملے فوری طور پر بند کیے جائیں، جبکہ امریکا اور اسرائیل اسے الگ معاملہ قرار دے رہے ہیں۔ایران نے اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی اور پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا ہے، جبکہ واشنگٹن نے عندیہ دیا ہے کہ وہ نرمی دکھا سکتا ہے، مگر اس کے بدلے ایران کے ایٹمی اور میزائل پروگرام پر سمجھوتہ چاہتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ یورینیم افزودگی کے معاملے پر امریکا کا مؤقف سخت رہے گا۔آبنائے ہرمز کا کنٹرول بھی ایک اہم تنازع بن کر سامنے آیا ہے، جہاں ایران اس پر اپنی حاکمیت تسلیم کروانا چاہتا ہے جبکہ امریکا اسے عالمی گزرگاہ کے طور پر بغیر کسی پابندی کے کھلا رکھنے پر زور دے رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایران جنگی نقصانات کے ازالے کے لیے ہرجانے کا مطالبہ بھی کر رہا ہے۔دوسری جانب امریکا اور اسرائیل ایران کی میزائل صلاحیتوں میں کمی چاہتے ہیں، تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ اس کا دفاعی پروگرام کسی بھی صورت مذاکرات کا حصہ نہیں ہوگا۔ ایران خطے سے امریکی افواج کے انخلا کا مطالبہ بھی کر رہا ہے، جبکہ امریکی قیادت نے عندیہ دیا ہے کہ امن معاہدے تک فوجی موجودگی برقرار رکھی جائے گی۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ یہ مذاکرات ایک اہم پیش رفت ہیں، تاہم دونوں ممالک کے سخت مؤقف کے باعث فوری معاہدہ مشکل دکھائی دیتا ہے، اور اس بات کا انحصار آئندہ بات چیت اور اعتماد سازی پر ہوگا کہ آیا یہ عمل خطے میں پائیدار امن لا سکتا ہے یا نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.