امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات آج اسلام آباد میں متوقع ہیں، جہاں پاکستان کی میزبانی میں دونوں ممالک ممکنہ امن معاہدے کی جانب پیش رفت کی کوشش کریں گے۔
امریکی حکام کے مطابق وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ ان کے ہمراہ ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے اور دیگر اعلیٰ شخصیات بھی شامل ہوں گی۔ دوسری جانب ایران کی نمائندگی محمد باقر قالیباف اور عباس عراقچی کریں گے۔پاکستانی حکام کے مطابق مذاکرات اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں ہوں گے، جہاں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے جبکہ شہر کے اہم داخلی راستوں پر بھی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں، اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر دو روزہ تعطیلات کا اعلان کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق مذاکرات کا بنیادی مقصد جاری کشیدگی کو کم کرنا اور مستقل امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔ ایران کی جانب سے پیش کیے گئے امن منصوبے میں خطے میں فوجی سرگرمیوں میں کمی، آبنائے ہرمز پر نگرانی اور غیر ملکی افواج کے انخلا جیسے نکات شامل ہیں، تاہم امریکا نے ان تمام مطالبات سے مکمل اتفاق نہیں کیا۔شہباز شریف کی دعوت پر ہونے والے ان مذاکرات میں اسحاق ڈار ثالثی کا کردار ادا کریں گے۔ پاکستان اس عمل میں ایک اہم سفارتی پل کے طور پر سامنے آیا ہے، کیونکہ اس کے دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات موجود ہیں۔ماہرین کے مطابق اگرچہ فوری معاہدہ مشکل دکھائی دیتا ہے، تاہم یہ مذاکرات ایک بڑی پیش رفت کا آغاز ثابت ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اعتماد سازی کے اقدامات اور مسلسل بات چیت ہی خطے میں پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔