امریکا میں پناہ کے متلاشی ہزاروں افراد اس وقت شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، جہاں انہیں ایسے ممالک بھیجنے کے احکامات دیے جا رہے ہیں جہاں وہ کبھی گئے بھی نہیں۔
رپورٹس کے مطابق 13 ہزار سے زائد تارکین وطن، جو قانونی طور پر اپنے اسائلم کیسز کے فیصلے کے منتظر تھے، اچانک تیسرے ممالک منتقلی کے احکامات کا سامنا کر رہے ہیں۔متاثرہ افراد میں افغانستان، کیوبا، وینزویلا اور دیگر ممالک کے شہری شامل ہیں، جنہیں یوگنڈا، ایکواڈور اور ہونڈوراس جیسے ممالک بھیجنے کے احکامات دیے گئے۔ تاہم ان میں سے بہت کم افراد کو واقعی ڈی پورٹ کیا جا سکا ہے، جس کے باعث بیشتر افراد قانونی خلا میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے پناہ گزینوں میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے اور ان کے لیے قانونی طور پر کام کرنے کے مواقع بھی ختم ہو گئے ہیں۔ ناقدین کے مطابق اس کا مقصد لوگوں کو اپنے کیسز چھوڑنے پر مجبور کرنا ہو سکتا ہے۔دوسری جانب امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ معاہدے قانونی ہیں اور اسائلم سسٹم پر دباؤ کم کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں، جہاں اس وقت تقریباً 20 لاکھ کیسز زیر التوا ہیں۔ تاہم عملی مشکلات، قانونی رکاوٹوں اور بین الاقوامی معاہدوں کی محدود گنجائش کے باعث ان احکامات پر مکمل عملدرآمد ممکن نہیں ہو سکا۔