پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کے تحت متعدد عالمی تنازعات میں ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے، جہاں اس نے بڑی طاقتوں کے درمیان رابطے بحال کرانے اور کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار نبھایا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کم از کم 4 سے 5 بڑے عالمی تنازعات میں براہِ راست یا بالواسطہ ثالثی یا سہولت کاری کر چکا ہے۔سب سے نمایاں مثال 1971 میں امریکا اور چین کے درمیان خفیہ سفارت کاری ہے، جب پاکستان نے دونوں ممالک کو قریب لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اسی طرح کوریا جنگ کے دوران پاکستان نے اقوام متحدہ کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے جنگ بندی، امن فوج اور قیدیوں کی واپسی میں اہم کردار ادا کیا۔ عرب اسرائیل تنازع میں بھی پاکستان نے نہ صرف سفارتی حمایت کی بلکہ عملی طور پر بھی کردار ادا کیا۔حالیہ برسوں میں پاکستان نے امریکا اور افغان طالبان کے درمیان 2020 کے دوحہ معاہدے میں سہولت کار کی حیثیت سے اہم کردار ادا کیا، جسے خطے میں امن کی ایک بڑی پیش رفت قرار دیا گیا۔ اس کے علاوہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے بھی پاکستان نے سفارتی سطح پر کوششیں کیں، جبکہ موجودہ حالات میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ کشیدگی میں بھی پاکستان کا کردار زیرِ غور ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات اور سفارتی تجربہ اسے ایک مؤثر ثالث بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر کشیدگی کے ہر بڑے موقع پر پاکستان کو ایک ممکنہ پل کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔