امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دیے گئے الٹی میٹم کے بعد ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اس اہم گزرگاہ کو مکمل بند کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
ایرانی فوج کے آپریشنل کمانڈ ہیڈکوارٹر خاتم الانبیا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا تو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا اور اسے اس وقت تک نہیں کھولا جائے گا جب تک متاثرہ تنصیبات مکمل طور پر بحال نہیں ہو جاتیں۔ حکام کے مطابق یہ اقدامات قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے کیے جائیں گے۔یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولے، جو امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد سے جزوی طور پر بند ہے۔ ایران نے اس کے جواب میں نہ صرف اسرائیل بلکہ خطے میں موجود امریکی مفادات اور اتحادی ممالک کی توانائی تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی گزرتی ہے۔ موجودہ کشیدگی کے باعث اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی آ چکی ہے، جس سے عالمی منڈی اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔