ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر ہونے والا حملہ عالمی سطح پر توانائی کے بحران کی نئی لہر پیدا کر رہا ہے، جس کے اثرات تیزی سے پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اسرائیل کی جانب سے ایران کی اس اہم تنصیب کو نشانہ بنانا صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔یہ گیس فیلڈ دنیا کے سب سے بڑے قدرتی گیس ذخائر میں شامل ہے، جو خلیج فارس میں واقع ہے اور قطر کے ساتھ مشترکہ طور پر استعمال ہوتی ہے۔ قطر اسی ذخیرے کے اپنے حصے کو “نارتھ ڈوم” کے نام سے استعمال کرتا ہے، جہاں سے دنیا بھر کو ایل این جی سپلائی کی جاتی ہے۔حملے کے بعد ایران کی جانب سے ردعمل میں راس لفان جیسے اہم صنعتی مرکز کو نشانہ بنانے کی اطلاعات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ یہ مقام دنیا کا سب سے بڑا ایل این جی پروسیسنگ حب سمجھا جاتا ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کا نقصان عالمی گیس سپلائی کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کشیدگی کے باعث ایشیا اور یورپ میں گیس کی قیمتیں 60 سے 70 فیصد تک بڑھ چکی ہیں، جبکہ یورپ میں بعض جگہوں پر قیمتیں دوگنی ہو گئی ہیں۔ متبادل سپلائی نہ ہونے کے برابر ہے، جس کی وجہ سے بحران کے جلد ختم ہونے کے امکانات کم نظر آتے ہیں۔اس کے اثرات عام لوگوں تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں گیس کی قلت، مہنگائی اور صنعتی سست روی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ بعض علاقوں میں اسکول بند اور سرکاری اوقات کار محدود کیے جا رہے ہیں تاکہ توانائی بچائی جا سکے۔مجموعی طور پر ساؤتھ پارس پر حملہ ایک ایسا واقعہ بن چکا ہے جس نے دنیا کے توانائی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اور اس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔