ڈیلس:27 اور 29 رمضان کی بابرکت راتیں، مساجد و امام بارگاہوں میں ختمِ قرآن، امتِ مسلمہ کے لیے خصوصی دعائیں
ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلس میں 27 اور 29 رمضان المبارک کی پرنور شبوں میں تمام مساجد اور امام بارگاہوں میں ختم القران کی بابرکت محافل منعقد کی گئیں۔۔ان محافل میں اتحاد بین المسلمین کا زبردست عملی مظاہرہ دیکھنے میں آیا اور عالم ِ اسلام کے لیے رقت آمیز دعائیں کی گئیں۔
ماہِر مبارک کی بابرکت ساعتوں اور طاق راتوں با الخصوص ستائیس اور انتیس ویں شب کے موقع پر ڈیلس فورٹورتھ میٹرو پلیکس میں مدینہ مسجد کیرٹن ، مسجد کارلینڈ، علم سینٹر پلانو، مومن سینٹر کیریٹرن، سٹی اف نالج کیریٹن سمیت تمام ہی چھوٹی بڑی مساجد اور امام بارگاہوں میں ختم القران کی پر نور محافلوں کا اہتمام کیا گیا۔۔مسلمانوں کے سب سے بڑے اسلامی مرکز ایسٹ پلانو اسلامک سینٹر میں منعقدہ ختم القران کی پرنور محافل کے اختتام پر ان محافل کے اختتام پر علمائے کرام اور مشائخ نے اپنی رقت آمیز دعاؤں میں فلسطین ، پاکستان، ایران، افغانستان، ہندوستان اور تمام عرب ممالک سمیت پوری دنیا میں مقیم امتِ مسلمہ کی امن و سلامتی، خوشحالی اور استحکام کے لیے گڑگڑا کر دعائیں کیں۔علما کرام میں شامل یاسر قاضی اور امام ندیم بشیر نےدنیا کے مختلف حصوں میں زیرِ عتاب مظلوم مسلمانوں اور انسانیت کی تکالیف کے خاتمے اور عالمی امن کے قیام کے لیے خصوصی التجا کی اور اس بات پر زور دیا کہ موجودہ کٹھن حالات میں امتِ مسلمہ کا اتحاد ہی کامیابی کی کنجی ہے۔۔مساجد کے منتظمین ، والنٹیئرز اور دیگر کا کہنا ہے کہ اس سال نوجوانوں اور بچوں کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کی علامت ہے کہ دیارِ غیر میں بھی اسلامی اقدار اور ہمدردی کا جذبہ زندہ و جاوید ہے۔ان اجتماعات میں خواتین کی بھی کثیر تعداد شریک ہوئی جن کے لیے پردے کا مکمل انتظام کیا گیا تھا۔۔خواتین کا کہنا تھا کہ ہم خوش نصیب ہیں کہ مسجد میں نمازیوں کی خدمت کا موقع ملا۔ڈیلس کی مختلف مساجد میں ہونے والے ان اجتماعات میں شیعہ اور سنی مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی جس سے اتحادِ بین المسلمین کا ایک عملی نمونہ نظر آیا۔مقامی پاکستانی اور دیگر ایشیائی و عرب کمیونٹی نے ان راتوں میں نہ صرف اپنی مغفرت کی دعا کی بلکہ اپنی جڑوں سے وابستگی کا ثبوت دیتے ہوئے وہاں کے حالات کی بہتری کو اپنی دعاؤں کا مرکز بنائے رکھا۔تمام اجتماعات زور دیا گیا کہ بین المذاہب ہم آہنگی کو مزید فروغ دیا جائے ۔