نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ میں 950 سے زائد گریجویٹس نے بطور پولیس افسر حلف اٹھالیا
نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ میں ساڑھے نو سو سے زائد گریجویٹس نے بطور پولیس افسرحلف اٹھالیا۔ پاکستانی امریکن کمیونٹی کے نوجوان، فضل ابراہیم اپنے خاندان کی تیسری نسل سے پولیس افسر بن گئے ۔
نیویارک میں پاکستانی امریکن کمیونٹی میں پولیس میں شمولیت اختیار کرنے کا جذبہ بڑھنے لگا۔۔اب نوجوان نسل اپنے بزرگوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پولیس فورس میں شمولیت کی روایت کوآگے بڑھا رہی ہے ۔میڈیسن اسکوائر گارڈن میں منعقدہ تقریب کا آغاز امریکی قومی ترانے ، پولیس کے چاک و چوبند دستوں کی سلامی اور روایتی بینڈسے ہوا۔تقریب میں نیویارک سٹی کے میئر زوہران ممدانی، پولیس کمشنر جیسیکاٹش سمیت اعلیٰ افسران سمیت نئے بھرتی ہونے والے نوجوان اور ان کے اہلخانہ نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی ۔شرکا سے خطاب میں میئر زوہران ممدانی اور کمشنر جیسیکا ٹش نے نوجوان نسل کی تربیت میں پولیس اکیڈمی کے کردار کو سراہا اور این وائے پی ڈی کو بہترین شعبہ قرار دیا۔نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ میں مجموعی طور پر مختلف کمیونٹی سے 971 نئے افسران بھرتی ہوگئے ہیں جن میں پاکستانی نژاد فضل ابراہیم بھی شامل ہیں جنھوں نے پولیس فورس میں شمولیت کی اپنے والد اور تایا کی خاندانی روایت کوآگے بڑھایا اور یہ پیغام دیا کہ شہریوں کی حفاظت کا جذبہ انھیں وراثت میں ملا ہے۔۔تقریب کے شرکا کو پولیس کے پیشہ ورانہ امور اور فرائض منصبی کی ادائیگی پر مشتمل ایک مختصر ویڈیو بھی دکھائی گئی ۔ اس موقع پر نئے پولیس افسران سے حلف لیا گیا۔ نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ میں پاکستانی نژاد نوجوانوں کی شمولیت کو فروغ دینے میں انسپکٹر عدیل رانا کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔۔ نوجوان نسل میں حسیب خالد بھی عدیل رانا کو اپنا رول ماڈل سمجھتے ہیں ۔اسی لیے جب انھوں نے اپنا کیئرئیر شروع کیا تو انسپکٹرعدیل رانا سے ہی پن لگوائی ۔پاکستانی کمیونٹی سے عبد اللہ فضل ہوں یا حسیب خالد ۔۔ دونوں نےپہلے کیڈٹ اور پھر پولیس افسر بن کر نوجوانوں کو پیغام دیا ہے کہ نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ میں ترقی اور اگے بڑھنے کی بے پناہ مواقع میسر ہیں ۔تقریب کے اختتام پر نئے افسرا ن کی شمولیت کا شاندار انداز میں جشن منایا گیا ۔۔