ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات کے بعد ان کے بیٹے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا گیا ہے۔ تجزیہ کار اس تقرری کو ایران کی سیاست میں ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں جس کے اثرات ملک کے اندر اور عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو اپنے والد کے مقابلے میں نسبتاً سخت گیر اور نظریاتی رہنما سمجھا جاتا ہے اور ان کے ایران کے طاقتور نیم فوجی ادارے پاسداران انقلاب اور ریاستی اداروں کے ساتھ قریبی روابط بھی بتائے جاتے ہیں۔ماہرین کے مطابق نئی قیادت کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا وہ ایران کی موجودہ پالیسیوں کو مزید سخت بنائیں گے یا خطے اور عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں کسی حد تک نرمی لانے کی کوشش کریں گے۔مجتبیٰ خامنہ ای ایسے وقت میں اقتدار سنبھال رہے ہیں جب ایران کو اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک طرف امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی اور جنگی صورتحال نے خطے میں تناؤ بڑھا دیا ہے تو دوسری جانب ایران کی معیشت بھی طویل عرصے سے بین الاقوامی پابندیوں اور داخلی مسائل کے باعث دباؤ میں ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق نئی قیادت کے لیے سب سے بڑا چیلنج معاشی بحران پر قابو پانا، داخلی سیاسی اختلافات کو کم کرنا اور خطے میں ایران کی پالیسیوں کو متوازن رکھنا ہوگا۔ آنے والے مہینے اس بات کا تعین کریں گے کہ ایران نئی قیادت میں کس سمت میں آگے بڑھتا ہے۔