دنیا اس وقت شدید کشیدگی کے باعث غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے اور امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد پورا خطہ جنگی ماحول کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر بڑی عالمی طاقتیں براہ راست آمنے سامنے آ گئیں تو اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں، تاہم کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جو اپنے جغرافیائی محل وقوع، دفاعی حکمت عملی، خوراک اور توانائی میں خود کفالت اور سیاسی غیر جانبداری کی وجہ سے نسبتاً محفوظ رہ سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کا محفوظ ہونا صرف اس کی فوجی طاقت پر منحصر نہیں ہوتا بلکہ اس کا محل وقوع، وسائل اور عالمی سیاست میں اس کا کردار بھی اہم ہوتا ہے۔یورپ میں واقع سوئٹزر لینڈ کو نسبتاً محفوظ ممالک میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ اس نے طویل عرصے سے غیر جانبدار خارجہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ اس کے علاوہ اس ملک میں بڑی تعداد میں زیر زمین ایٹمی پناہ گاہیں موجود ہیں اور اس کا پہاڑی جغرافیہ قدرتی دفاع فراہم کرتا ہے۔اسی طرح آئس لینڈ اور نیوزی لینڈ کو بھی محفوظ ترین ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ آئس لینڈ اپنے جغرافیائی محل وقوع اور بڑے فوجی اتحادوں سے دوری کی وجہ سے ممکنہ حملوں سے بچ سکتا ہے جبکہ وہاں موجود جیو تھرمل توانائی کے وسیع وسائل اسے توانائی کے بحران سے بھی محفوظ رکھ سکتے ہیں۔نیوزی لینڈ جنوبی نصف کرہ میں واقع ہونے کے باعث ممکنہ ایٹمی جنگ کے بعد پیدا ہونے والی تابکاری اور نیوکلیئر ونٹر کے اثرات سے کافی حد تک محفوظ رہ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں وسیع زرعی زمینیں اور کم آبادی اسے خوراک کے معاملے میں خود کفیل بناتی ہیں۔آسٹریلیا بھی اپنے وسیع رقبے اور قدرتی وسائل کی وجہ سے جنگی حالات میں مضبوط پوزیشن رکھتا ہے۔ اس ملک میں خوراک اور ایندھن کے کافی ذخائر موجود ہیں جو اسے بیرونی دنیا سے کٹ جانے کی صورت میں بھی طویل عرصے تک اپنے شہریوں کی ضروریات پوری کرنے کے قابل بناتے ہیں۔گرین لینڈ بھی ممکنہ جنگی خطوں سے فاصلے اور نسبتاً غیر جانبدار سیاسی حیثیت کی وجہ سے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ایشیا میں واقع بھوٹان بھی اپنی جغرافیائی صورتحال کی وجہ سے نسبتاً محفوظ قرار دیا جاتا ہے۔ بلند و بالا ہمالیائی پہاڑ اور عالمی سیاست میں محدود کردار اسے بڑی طاقتوں کے تنازعات سے دور رکھتے ہیں جبکہ دشوار گزار پہاڑی راستے کسی بھی بیرونی فوج کے لیے یہاں تک پہنچنا مشکل بنا دیتے ہیں۔