امریکا کے شہر نیویارک میں اسلام مخالف مظاہرے کے دوران ایک دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلہ پھینکے جانے کے واقعے کے بعد پولیس نے ابتدائی تفصیلات جاری کردی ہیں۔
نیویارک پولیس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسلام مخالف مظاہرین اور ان کے خلاف احتجاج کرنے والے گروپوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ یہ مظاہرہ شہر کے پہلے مسلمان میئر زوہران ممدانی کی سرکاری رہائش گاہ کے قریب ہوا۔پولیس کمشنر نے بتایا کہ بم اسکواڈ کی ابتدائی تحقیق میں واضح ہوا ہے کہ پھینکا گیا آلہ کوئی جعلی یا صرف دھوئیں والا بم نہیں تھا بلکہ ایک حقیقی دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلہ تھا جو کسی کو شدید زخمی یا ہلاک کر سکتا تھا۔پولیس کے مطابق مظاہرے کے دوران پہلے اسلام مخالف گروپ کی جانب سے مخالف مظاہرین پر پیپر اسپرے کیا گیا جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ اس دوران ایک شخص نے نٹس، بولٹس اور پیچ سے بھرا ہوا آلہ جلا کر مظاہرین کی طرف پھینک دیا۔یہ آلہ ایک رکاوٹ سے ٹکرا کر بجھ گیا اور پولیس اہلکاروں سے چند فٹ کے فاصلے پر گر گیا۔ بعد میں ایک اور اسی نوعیت کا آلہ بھی ملا۔پولیس نے موقع پر موجود دو افراد، امیر بلات اور ابراہیم قیومی کو حراست میں لے لیا ہے۔ حکام کے مطابق اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔مظاہرے کے دوران دونوں گروپوں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی جبکہ بعض افراد نے ایک دوسرے پر انڈے بھی پھینکے۔ مجموعی طور پر واقعے کے دوران چھ افراد کو گرفتار کیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا اور اس وقت میئر اپنی رہائش گاہ میں موجود نہیں تھے۔