امریکا کی دوسرے ممالک پر حملوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ اس نے 2001 میں نائن الیون حملوں کے بعد سے پوری دنیا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر ایک مہم شروع کی۔ اس دوران کئی ممالک امریکی فضائی، ڈرون یا زمینی حملوں کی زد میں آئے جب کہ امریکی فوج نے اس دوران کئی ممالک میں ٹارگٹڈ کارروائیاں بھی کیں۔
نائن الیون حملوں کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر دنیا کے مختلف حصوں میں فوجی کارروائیاں شروع کیں۔ اس دوران امریکہ نے کم از کم تین بڑی جنگیں لڑی جبکہ متعدد ممالک میں فضائی، ڈرون اور خفیہ فوجی حملے بھی کیے۔ ماہرین کے مطابق دو دہائیوں سے زائد عرصے میں کئی ممالک امریکی فوجی کارروائیوں کی زد میں آئے۔گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو نیویارک میں ہونے والے حملوں کے بعد امریکہ نے سب سے پہلے افغانستان پر حملہ کیا، جہاں طالبان حکومت کو ہٹا دیا گیا۔ یہ جنگ تقریباً بیس سال تک جاری رہی۔ اس کے بعد دو ہزار تین میں عراق پر حملہ کیا گیا جس کی وجہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار بتائے گئے، تاہم بعد میں یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا۔ان بڑی جنگوں کے علاوہ امریکہ نے پاکستان، یمن، صومالیہ، لیبیا اور شام سمیت کئی ممالک میں ڈرون اور فضائی حملے کیے۔ بعض مقامات پر خفیہ فوجی کارروائیاں بھی کی گئیں جبکہ دو ہزار گیارہ میں لیبیا میں نیٹو کے ساتھ مل کر فضائی حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں معمر قذافی کی حکومت ختم ہوگئی۔بین الاقوامی تحقیقی اداروں کے مطابق دو ہزار ایک کے بعد امریکی قیادت میں ہونے والی جنگوں اور فوجی کارروائیوں میں تقریباً نو لاکھ چالیس ہزار افراد ہلاک ہوئے جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی تھی۔ اندازوں کے مطابق ان جنگوں پر امریکہ اب تک تقریباً پانچ اعشاریہ آٹھ ٹریلین ڈالر خرچ کر چکا ہے جبکہ مجموعی اخراجات مستقبل میں آٹھ ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔