ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے باعث فضائی سفر شدید متاثر ہو گیا ہے اور ہزاروں مسافر مختلف ہوائی اڈوں پر پھنس گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال آنے والے کئی دنوں بلکہ ہفتوں تک برقرار رہ سکتی ہے جس کے باعث عالمی فضائی نظام پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق خلیجی ممالک کے ہوائی اڈے یورپ، افریقہ اور ایشیا کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں کے لیے اہم رابطہ مراکز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ فضائی حدود کی بندش اور سکیورٹی خدشات کے باعث متعدد ایئرلائنز نے پروازیں منسوخ کر دی ہیں جبکہ کئی کمپنیوں کو متبادل اور طویل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں، جس کے باعث آپریشنل اخراجات اور ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔فضائی سفر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مسافروں کو چاہیے کہ غیر ضروری سفر کو مؤخر کریں اور ایئرلائنز، ہوائی اڈوں اور حکومتی اداروں کی جانب سے جاری ہونے والی تازہ ہدایات پر مسلسل نظر رکھیں کیونکہ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر سفر ناگزیر ہو تو مسافروں کو قابل واپسی یا قابل تبدیلی ٹکٹ حاصل کرنے کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مشکلات سے بچا جا سکے۔عالمی سطح پر کئی ممالک نے اپنے شہریوں کے لیے سفری ہدایات جاری کر دی ہیں اور بعض حکومتوں نے خطے سے اپنے شہریوں کے انخلا کے اقدامات بھی شروع کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں مسافروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سفارت خانوں کی تازہ معلومات سے باخبر رہیں اور سفر سے پہلے تمام ممکنہ خطرات اور حفاظتی ہدایات کا مکمل جائزہ لیں۔