تہران کے اہم سفارتی اتحادی روس اور چین نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، تاہم سخت بیانات کے باوجود دونوں ممالک نے ایران کی حمایت میں براہ راست فوجی مداخلت کا کوئی عندیہ نہیں دیا۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کو انسانی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے بھی کشیدگی میں اضافے سے گریز کرنے پر زور دیا۔ روس اور چین نے مشترکہ طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست بھی کی ہے۔اگرچہ روس اور ایران نے جنوری دو ہزار پچیس میں شراکت داری کا معاہدہ کیا تھا اور دونوں ممالک نے حال ہی میں بحر ہند میں مشترکہ بحری مشقیں بھی کی تھیں، لیکن اس معاہدے میں باہمی دفاع کی کوئی شق شامل نہیں۔ ماہرین کے مطابق اسی وجہ سے روس قانونی طور پر ایران کی جنگ میں براہ راست شامل ہونے کا پابند نہیں ہے۔دوسری جانب چین اور ایران کے تعلقات زیادہ تر معاشی اور تجارتی نوعیت کے ہیں۔ دو ہزار اکیس میں دونوں ممالک نے پچیس سالہ تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، تاہم بیجنگ نے واضح کیا ہے کہ وہ دیگر ممالک کے معاملات میں فوجی مداخلت نہیں کرتا اور اس کا کردار زیادہ تر سفارتی کوششوں تک محدود رہتا ہے۔ماہرین کے مطابق ایران کی خام تیل کی برآمدات کا تقریباً ستاسی فیصد چین کو جاتا ہے، جس سے تہران کے لیے چین کی معاشی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ تاہم چین کی عالمی تجارت میں ایران کا حصہ نسبتاً کم ہے، اسی لیے بیجنگ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور اپنے معاشی مفادات کے تحفظ پر زیادہ توجہ دے رہا ہے۔