اسرائیل اور امریکا کی ایران کے خلاف جنگی محاذ کھولنے پر اب امریکا کے اندر ہی آوازیں اٹھنے لگیں ۔ امریکی شہریوں کی اکثریت نے ایران پر حملوں کی مخالفت کردی ہے۔امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز سب کمیٹی کے اجلاس کے دوران سابق میرین برائن میکگینس نے جنگ کی مخالفت میں نعرے لگائے تو انھیں اجلاس سے باہر نکال دیا۔
اسرائیل اور امریکا کے ایران پر حملوں نے جہاں ان گنت سوالات کو جنم دیا ہے وہیں ان حملوں کے خلاف اب امریکی عوام بھی آواز اٹھار ہے ہیں ۔خبر ایجنسی روئٹرز، سی این این اور تحقیقی ادارے آئی پی ایس او ایس کے سروے میں امریکی شہریوں کی اکثریت نے ایران پر حملوں کی مخالفت کر دی ہے۔اس سروے میں 1200 سے زائد امریکی شہریوں سے ایران پر حملوں سے متعلق رائے لی گئی تو صرف ایک چوتھائی امریکیوں نے ایران پر امریکا اور اسرائیلی حملوں کی حمایت کی۔ 43 فیصد امریکی شہریوں نے ایران پر حملے کی کھل کر مخالفت کی۔ سی این این کے سروے میں تقریباً 60 فیصد امریکیوں نے ایران پر حملوں کو مسترد کیا۔ امریکی شہریوں کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے پاس کوئی واضح حکمت عملی نہیں ۔ڈیموکریٹس اور آزاد ووٹرز کی اکثریت بھی حملوں کے خلاف نکلی۔دوسری طرف امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز سب کمیٹی کے اجلاس کے دوران سابق میرین برائن میکگینس نے کھڑے ہو کر ایران کے خلاف ممکنہ جنگ کی مخالفت میں نعرے لگادیے۔ اس دوران کیپیٹل پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں قابو میں لے کر اجلاس سے باہر نکال دیا۔ جھڑپ کے دوران میکگینس کے بازو میں چوٹ آئی جبکہ تین پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ گزشتہ روز امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد بظاہر تو مسترد ہوگئی ۔۔اور ایسا اس لیے بھی ہوا کہ کیونکہ سینیٹ میں اس وقت ٹرمپ کی جماعت ری پبلیکن پارٹی کی اکثریت ہے۔ یہ قرارداد 47 کے مقابلے میں 53 ووٹوں سے مسترد ہوئی ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو امریکی ایوانِ بالا میں 47 فیصد سینیٹر اس جنگ کے خلاف ہیں ۔ایک اور امریکی سینیٹر الزیبتھ وارن نے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ پر اپنی متعدد پوسٹس میں صدر ٹرمپ کے ایران پر حملوں کے فیصلوں کی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ الزیبتھ وارن نے لکھا کہ ٹرمپ نے اقتدار کے پہلے روز تمام جنگیں ختم کرنے اور عوام کے لیے مہنگائی ختم کرنے کا دعویٰ کیا لیکن ٹرمپ کی شروع کی گئی جنگ مہنگائی کو بڑھاوا دے رہی ہے۔انھوں نے یہ بھی لکھا کہ امریکی عوام کو مشرق ِ وسطیٰ میں جنگ کی ضرورت نہیں بلکہ وہ اپنے ملک میں علاج معالجے کی سستی سہولتیں اورسستی غذائی اشیاء چاہتے ہیں ۔