امریکا کے سب سے بڑے شہر نیویارک کو 2019 سے اب تک پولیس بدانتظامی کے مقدمات کے تصفیوں کی مد میں تقریباً 80 کروڑ ڈالر ادا کرنا پڑے ہیں، جب کہ صرف گزشتہ سال 11 کروڑ 70 لاکھ ڈالر سے زائد رقم خرچ کی گئی۔
یہ انکشاف عوامی محافظ ادارے دا لیگل ایڈ سوسائٹی کی جانب سے جاری کردہ تازہ تجزیاتی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران پولیس بدانتظامی کے 1,044 مقدمات نمٹائے گئے، جو 2019 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔ گزشتہ چار برسوں سے تصفیوں کی مجموعی رقم 10 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر رہی ہے۔ شہر کو 2024 میں 20 کروڑ 64 لاکھ ڈالر اور 2020 میں 6 کروڑ 21 لاکھ ڈالر ادا کرنا پڑے تھے۔ حکام کے مطابق یہ ادائیگیاں پولیس کے سالانہ بجٹ سے الگ مد سے کی جاتی ہیں۔گزشتہ سال سب سے بڑی رقوم اُن افراد کو دی گئیں جو 1980 کی دہائی میں غلط گرفتاری اور سزا کا شکار ہوئے تھے۔ 1986 کی ایک ڈکیتی کے مقدمے میں دو افراد کو مجموعی طور پر 2 کروڑ 41 لاکھ ڈالر دیے گئے، جب کہ ایک اور شخص کو آنکھ ضائع ہونے کے دعوے پر 57 لاکھ 50 ہزار ڈالر ملے۔ اسی طرح 2020 میں احتجاجی مظاہروں کے دوران مبینہ تشدد کے متاثرین اور جھوٹے مقدمات میں پھنسائے گئے افراد کو بھی لاکھوں ڈالر ادا کیے گئے۔ادھر شہر کو 5 ارب 40 کروڑ ڈالر کے بجٹ خسارے کا سامنا ہے۔ میئر ممدانی نے پولیس کے 6 ارب 40 کروڑ ڈالر کے بجٹ میں سے 2 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کم کرنے کی تجویز دی ہے، تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ زیادہ تر مقدمات پرانے واقعات سے متعلق ہیں اور موجودہ نظام میں احتساب اور نگرانی کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔