امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف جاری کارروائیوں میں استعمال ہونے والے جدید ہتھیاروں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں، جن کے مطابق فضائی، بحری اور دفاعی نظام بھرپور انداز میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ان حملوں میں بی-ٹو اسٹیلتھ بمبار طیارے مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، جو طویل فاصلے تک پرواز کر کے بھاری بموں کے ذریعے ایرانی اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ طیارے روایتی اور ایٹمی دونوں نوعیت کے ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس جنگ میں پہلی بار کم لاگت لوکس ڈرونز کا استعمال بھی کیا گیا ہے، جو ایرانی شاہد ایک سو چھتیس ڈرونز کے طرز پر تیار کیے گئے ہیں۔ فضائی کارروائیوں میں جدید لڑاکا طیارے بھی شامل ہیں، جبکہ الیکٹرانک جنگی نظام دشمن کے ریڈار اور مواصلاتی نظام کو متاثر کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔بحری محاذ پر امریکی طیارہ بردار جہاز اور جنگی بیڑے تعینات ہیں، جہاں سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل داغے جا رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے جدید دفاعی نظام بھی فعال کیے گئے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق طویل جنگ کی صورت میں ان دفاعی ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔نگرانی اور انٹیلی جنس کے لیے جدید جاسوس طیارے اور ڈرونز مسلسل سرگرم ہیں، جبکہ فضائی ایندھن بردار طیارے طویل دورانیے کے مشنز کو ممکن بنا رہے ہیں۔ بھاری اسلحہ اور فوجی سازوسامان کی منتقلی کے لیے بڑے کارگو طیارے بھی مشرق وسطیٰ میں تعینات کیے گئے ہیں۔